سرکاری عہدے کے غلط استعمال کی تحقیقات:شہزادہ اینڈریو کی گرفتاری کے بعد رہائی

سرکاری عہدے کے غلط استعمال کی تحقیقات:شہزادہ اینڈریو کی گرفتاری کے بعد رہائی
کیپشن: سرکاری عہدے کے غلط استعمال کی تحقیقات:شہزادہ اینڈریو کی گرفتاری کے بعد رہائی

ویب ڈیسک: برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کے چھوٹے بھائی شہزادہ اینڈریو کو سرکاری عہدے کے مبینہ غلط استعمال کے الزام میں حراست میں لینے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق 66 سالہ شہزادہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو اس شبہے میں گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے بطور سرکاری تجارتی نمائندہ اپنے دورِ ملازمت کے دوران حساس سرکاری دستاویزات مرحوم امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کو فراہم کیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں جمعرات کو کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کے بعد “مزید تحقیقات تک رہائی” دے دی گئی۔

پولیس کے مطابق گرفتاری کا مقصد جرم ثابت کرنا نہیں بلکہ تحقیقات کے لیے معقول بنیاد کی موجودگی کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں متعلقہ حکام نے تصدیق کی تھی کہ وہ ان الزامات کی باقاعدہ جانچ کر رہے ہیں۔

شاہی محل سے جاری بیان میں بادشاہ چارلس سوم نے کہا کہ قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور شاہی خاندان متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔

یاد رہے کہ شہزادہ اینڈریو ماضی میں جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے باعث اپنے تمام سرکاری شاہی فرائض سے دستبردار ہو چکے ہیں اور وہ کسی بھی غیر قانونی اقدام میں ملوث ہونے کی مسلسل تردید کرتے رہے ہیں۔

امریکی حکام کی جانب سے حالیہ دنوں ایپسٹین سے متعلق لاکھوں صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی گئی تھیں، جن میں شہزادہ اینڈریو کا نام بھی سامنے آیا۔ تاہم موجودہ تحقیقات کا تعلق کسی جنسی بدسلوکی کے مقدمے سے نہیں بلکہ سرکاری عہدے کے مبینہ ناجائز استعمال کے الزامات سے ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اگر ان پر باضابطہ فردِ جرم عائد کی گئی اور عدالت میں الزامات ثابت ہو گئے تو سرکاری عہدے میں بدعنوانی کے جرم میں سخت سزا، حتیٰ کہ عمر قید بھی سنائی جا سکتی ہے۔ معاملہ فی الحال مزید تفتیش کے مرحلے میں ہے۔

Watch Live Public News