(ویب ڈیسک) امریکا کی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہنگامی قانون کے تحت وسیع پیمانے پر ٹیرف نافذ کرکے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔
6کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے سنائے گئے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ 1977 کے قانون انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) کے تحت صدر کو ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔فیصلہ چیف جسٹس جان رابرٹس نے تحریر کیا۔
چیف جسٹس رابرٹس نے لکھا"صدر غیر معمولی اختیار کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ یکطرفہ طور پر لامحدود مقدار، مدت اور دائرہ کار کے ٹیرف عائد کر سکتے ہیں۔"
انہوں نے فیصلے میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کسی ایسے قانون کی نشاندہی نہیں کر سکی جس میں کانگریس نے واضح طور پر IEEPA کو ٹیرف پر لاگو کرنے کی اجازت دی ہو۔لہٰذا ہم قرار دیتے ہیں کہ IEEPA صدر کو ٹیرف نافذ کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔
جسٹس کلیرنس تھامس، بریٹ کیوانا اور سیموئیل الیٹو نے فیصلے سے اختلاف کیا۔
امریکی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ٹرمپ کے تمام ٹیرف ختم نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد کیے گئے ٹیرف بدستور برقرار رہیں گے کیونکہ وہ دیگر قوانین کے تحت نافذ کیے گئے تھے۔ تاہم عدالت نے دو اقسام کے ٹیرف کو کالعدم قرار دیا۔
1. ملک بہ ملک یا "ریسیپروکل" ٹیرف، جو چین پر 34 فیصد تک اور دیگر ممالک پر 10 فیصد بنیادی شرح تک تھے۔
2. کینیڈا، چین اور میکسیکو سے بعض اشیا پر 25 فیصد ٹیرف، جو انتظامیہ کے مطابق فینٹانائل کی اسمگلنگ روکنے میں ناکامی کے باعث لگایا گیا تھا۔
ٹرمپ دیگر قوانین کے تحت کچھ ٹیرف دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
جن کمپنیوں نے یہ ٹیرف ادا کیے، وہ امریکی محکمہ خزانہ سے رقم کی واپسی کا مطالبہ کر سکتی ہیں، اور سیکڑوں کمپنیاں پہلے ہی مقدمات دائر کر چکی ہیں۔
اختلافی نوٹ میں جسٹس کیوانا نے لکھا کہ عدالت نے اس بات پر کچھ نہیں کہا کہ حکومت اربوں ڈالر کی وصول شدہ رقم کیسے اور کب واپس کرے گی، اور اس کے امریکی خزانے پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔