ویب ڈیسک: جشن نوروز کا قدیم تہوار آج منایا جائے گا۔ نوروز بنیادی طور پر ایران اور دیگر فارسی تہذیب سے منسلک ممالک میں منایا جاتا ہے۔
یہ نیا سال مغربی ایشیا، وسطی ایشیا، قفقاز، بحیرہ اسود کے خطے، بلقان اور جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک میں گزشتہ 3000سال سے روایتی جوش و خروش سے منایا جارہا ہے۔
نوروز فارسی شمسی ہجری کیلنڈر کے مطابق 20 یا 21 مارچ کو آتا ہے جب سورج خط استوا کو عبور کرتا ہے اور شمالی نصف کرہ میں بہار کا آغاز ہوتا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا جشن نوروز کے موقع پر پیغام:
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جشن نوروز کے موقع پر پیغام جاری کردیا ہے۔ اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان اور دنیا بھر میں نوروز منانے والوں کو جشن نوروز کی مبارکباد۔ نوروز موسم بہار کی آمد اور فطرت کی تجدید کی علامت ہے۔ نوروز ان بے شمار نعمتوں، جس سے انسان کو نوازا گیا ہے کی شکرگزاری اور نئے سال کے لیے اپنی امیدوں اور خواہشات کے اظہار کا موقع ہے۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جشن نوروز ایرانی نئے سال کا آغاز ، نئے سال کو نئی امیدوں اور امنگوں کے ساتھ خوش آمدید کہنے کا وقت ہے۔ پاکستان میں نوروز منانے والے بہن بھائیوں بالخصوص پارسی برادری سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کا شکرگزار ہوں جنہوں نے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا ہے کہ آئیں،آج ہم سب مل کر اس نوروز کو باہمی اختلافات کو ختم کرنے، شمولیت کے فروغ، علاقائی و ثقافتی ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دینے کا دن بنائیں ۔
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا نوروز پر پیغام
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے موسم بہار کی آمد پر نوروز کی مبارک باد دی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں نوروز منانے والی سبھی اقوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ایران، افغانستان، تاجکستان، ترکمنستان، عراق، آذربائیجان اور پاکستان میں بھی نوروزجشن کی خوشیوں میں شریک ہیں۔امید اور خوشی نوروز کا آفاقی پیغام ہے۔ نوروز مختلف ثقافتوں، مشترکہ روایات اور اقدار کو نمایا ں کرتا ہے۔
مریم نوازشریف نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ نوروز ایسا تہوار ہے جو خاندانوں، برادریوں اور قوموں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرتا ہے۔ نوروز تجدید مسرت ، امن اور خوشحالی کی عالمگیر خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔
جشن نوروز ہے کیا اور کیوں منایا جاتا ہے؟
دنیا بھر میں ہر سال زرتشتیت یا آتش پرست مذہب کے پیروکار یعنی پارسی افراد مارچ کے وسط میں ’جشن نوروز‘ مناتے ہیں تاہم اس دن کو پارسیوں کے علاوہ دیگر لوگ بھی مناتے ہیں۔
’ نوروز‘ فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کی لغوی معنی ’نیا دن‘ ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس تہوار کو قدیم فارسی کیلنڈر کے آغاز کے موقع پر منایا جاتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ’ نوروز‘ کا دن ہر سال 40 لاکھ آتش پرست عقائد کے حامل افراد مناتے ہیں تاہم مجموعی طور پر اس تہوار کو 30 کروڑ افراد کسی نہ کسی طرح مناتے ہیں۔
یہ دن نہ صرف پارسی کیلینڈر کے آغاز کے موقع پر منایا جاتا ہے بلکہ اسے دنیا میں موسم بہار کے آغاز پر بھی منایا جاتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں مارچ کے مہینے میں موسم بہار کا آغاز ہوجاتا ہے اور اسی وجہ سے زرتشتیت عقائد نہ رکھنے والے لوگ بھی ہر سال مارچ میں ’ نوروز‘ کے تہوار کو موسم بہار کے جشن کے طور مناتے ہیں۔
’ نوروز‘ تہوار کو منانے والے 30 کروڑ افراد میں سے محض زرتشتیت عقائد کے پیروکار مذکورہ دن کو مذہبی طور پر مناتے ہیں جب کہ دیگر لوگ اس دن کو نئے سال اور موسم بہار سمیت خوشی کے تہوار کے طور مناتے ہیں۔
بعض مورخین کے مطابق ’ نوروز‘ کا تہوار تین ہزار سال سے منایا جا رہا ہے، کیوں کہ زرتشتیت مذہب کا شمار دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں ہوتا اور اس مذہب کے پیروکار تین ہزار سال قبل بھی پائے جاتے تھے۔
اس وقت دنیا بھر میں زرتشتیت عقائد کے پیروکاروں کی آبادی بہت کم رہ گئی ہے جب کہ اسی مذہب کے پیروکاروں کی نئی نسل اپنے آباؤ و اجداد کے مذہبی رجحانات سے دور ہے۔
’ نوروز‘ کو مذہبی طور پر منانے والے افراد کی آبادی میں نمایاں کمی کے بعد اقوام متحدہ نے ایران، افغانستان، پاکستان اور ترکمانستان جیسے ممالک کی درخواست پر ایک دہائی قبل 21 مارچ کو ’عالمی یوم نوروز‘ منانے کی منظوری دی تھی۔
’عالمی یوم نوروز‘ کا مقصد قدیم ترین تہذیب کو زندہ رکھنا ہے اور اقوام متحدہ کی جانب سے 21 مارچ کو نوروز ڈے قرار دیے جانے کے بعد اب ہر سال دنیا بھر میں اس دن کو منایا جاتا ہے۔