ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی اور طبی معائنے سے متعلق صورتحال اتنی سادہ نہیں جتنی وفاقی وزیرِ اطلاعات بیان کر رہے ہیں۔
اپنے بیان میں شیخ وقاص اکرم نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا اور مکمل طبی معائنے کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی، جس میں ڈاکٹر فیصل سلطان کو بھی شامل کیا جانا تھا۔
پی ٹی آئی رہنما کے مطابق عدالتی حکم میں عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی اسپتال میں موجودگی کی بھی ہدایت کی گئی تھی، تاہم ان کے بقول چند گھنٹوں کی کارروائی کے بعد عمران خان کو صحت مند قرار دے دیا گیا اور فجر سے قبل انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔
شیخ وقاص اکرم نے سوال اٹھایا کہ آنکھوں اور بلڈ پریشر سے متعلق مسائل کے باوجود عمران خان کو اچانک صحت مند قرار دینا کس حد تک قابلِ اعتبار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا عدالتی حکم کی اصل روح پر عمل کیا گیا یا محض ظاہری کارروائی مکمل کی گئی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی مکمل طبی رپورٹس فوری طور پر عدالت اور عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت اور وقار سیاسی معاملہ نہیں بلکہ ان کا بنیادی انسانی حق ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے الزام عائد کیا کہ موجودہ عمل عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور عدالت کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔