ویب ڈیسک :امریکا نے عالمی ادارہ صحت کو خیر آباد کہہ دیا، ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف اٹھاتے ہی ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے۔
تفصیلات کے مطابق ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے امریکی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے دستبردار ہوجائے۔ اس صدارتی حکم نامے پر دستخط کے بعد اب عالمی ادارہ صحت ممکنہ طور پر عالمی امداد کے مد میں حاصل ہونے والی سب سے بڑی فنڈنگ سے محروم ہوجائے گا۔
یادرہے جنیوا میں قائم ڈبلیو ایچ او کا ادارہ عالمی صحت کے خطرات سے لڑنے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، متعدی بیماریوں کے ساتھ ساتھ انسانی بحرانوں اور صحت کے دائمی امراض جیسے کینسر اور دل کی بیماریوں پر جنگ لڑنے میں عالمی ادارہ صحت کا اہم کردار ہے ۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق، 2024-25 کے بجٹ سائیکل کے دوران، امریکی تعاون 662 ملین ڈالر، یا ایجنسی کی کل آمدنی کا 19 فیصد رہا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ حکومت 2024 کی یو ایس گلوبل ہیلتھ سکیورٹی حکمتِ عملی کا جلد از جلد جائزہ لے گی اور اسے منسوخ اور تبدیل کر دے گی۔
ڈبلیو ایچ او کے اگلے سب سے بڑے عطیہ دہندگان بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن ہیں اگرچہ اس فنڈ کا زیادہ تر حصہ پولیو کے خاتمے اور عالمی ویکسین گروپ گاوی کو جاتا ہے۔ اس کے بعد یورپی کمیشن اور عالمی بینک آتے ہیں۔ اگلا سب سے بڑا قومی عطیہ دہندہ جرمنی ہے جو ڈبلیو ایچ او کی اعانت کا تقریباً تین فیصد حصہ دیتا ہے۔
اپنی پہلی مدت صدارت کے اختتام پر بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے کم اقدامات اور چین کو گمراہ کن پراپیگنڈا پھیلانے میں ریلیف دینے پر عالمی ادارہ صحت کو چھوڑنے کی کوشش کی تھی. اس اقدام کو امریکی پارلیمینٹرینز اور ماہرین صحت کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
2020 کی کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ کے مطابق، یہ واضح نہیں ہے کہ آیا امریکی صدر کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ڈبلیو ایچ او سے نکلنے کا اختیار حاصل ہے۔ پھر بھی، امکان ہے کہ ریپبلکن کنٹرول والی کانگریس ٹرمپ کے اقدام کو روک دے گی۔
یادرہے عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر میں چیچک کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا، اور HIV اور پولیو جیسی متعدی بیماریوں سے جنگ لڑ رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او اس وقت ہیضہ، ڈینگی، ایم پی اوکس اور ماربرگ وائرس کے پھیلنے سمیت صحت کی ہنگامی صورتحال پر اقدامات کررہا ہے اور امریکا کے اخراج سے اسے شدید دھچکا لگے گا۔
امریکی قانون کے تحت ڈبلیو ایچ او کو چھوڑنے کے لیے ایک سال کے نوٹس کی مدت اور کسی بھی بقایا فیس کی ادائیگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ گذشتہ بار ادارے سے امریکی انخلا مکمل ہونے سے پہلے جو بائیڈن نے صدارتی انتخاب جیت لیا اور 20 جنوری 2021 کو عہدے سنبھالنے کے پہلے دن ہی اسے روک دیا تھا۔