چین سے ایران جانے والی ‘گھوسٹ پروازیں’: مغربی ماہرین دفاع میں تشویش، خفیہ فوجی امداد کا شبہ

چین سے ایران جانے والی ‘گھوسٹ پروازیں’: مغربی ماہرین دفاع میں تشویش، خفیہ فوجی امداد کا شبہ
کیپشن: چین سے ایران جانے والی ‘گھوسٹ پروازیں’: مغربی ماہرین دفاع میں تشویش، خفیہ فوجی امداد کا شبہ

ویب ڈیسک: (علی زیدی) چین سے ایران جانے والی بوئنگ 747 کارگو طیاروں کی پراسرار پروازوں نے مغربی دفاعی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جن کا ماننا ہے کہ بیجنگ، ایران کو اسرائیلی حملوں کے تناظر میں خفیہ طور پر امداد فراہم کر رہا ہے۔

فاکس نیوز ڈیجیٹل کی رپورٹ کے مطابق 14 جون کے بعد سے کم از کم پانچ مال بردار پروازیں چین سے روانہ ہوئیں جو ایرانی فضائی حدود کے قریب پہنچ کر ریڈار سے غائب ہو گئیں۔ یہ معلومات فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا اور یورپی انٹیلیجنس ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔

'گھوسٹ فلائٹس' کی پراسرار نقل و حرکت

رپورٹس کے مطابق یہ کارگو طیارے شمالی چین کے ہوائی راستوں سے ہوتے ہوئے وسطی ایشیا، قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان عبور کر کے ایران کے قریب پہنچتے ہیں، جہاں وہ اچانک ریڈار سے غائب ہو جاتے ہیں۔ ان پروازوں کی منزل بظاہر لکسمبرگ بتائی گئی، لیکن کسی بھی طیارے نے یورپی فضائی حدود میں داخل ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: چین سے ایران کی جانب پراسرارکارگوپروازیں، کیا جنگی سازوسامان منتقل کیا؟

فاکس نیوز اور برطانوی اخبار "ٹیلیگراف" نے ان پروازوں کو "پراسرار کارگو مشنز" اور "خفیہ طیارے" قرار دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طیارے ممکنہ طور پر ایران کو فوجی سازوسامان یا حساس سامان کی فراہمی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران پر اسرائیلی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

کارگو لگژ ایئرلائن کی تردید

شروع میں یہ سمجھا گیا کہ ان پروازوں کا تعلق لکسمبرگ کی کارگو ایئرلائن "کارگولکس" سے ہے، تاہم کمپنی نے اتوار کو وضاحت جاری کرتے ہوئے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ "ہمارا کوئی طیارہ ایرانی فضائی حدود میں داخل نہیں ہوا۔ ہمارے فلائٹ ٹریکنگ سسٹمز مکمل شفافیت فراہم کرتے ہیں، اور ایران سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔"

چین کا محتاط مؤقف

اگرچہ ان پروازوں کی سرگرمی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، بیجنگ کی جانب سے تاحال کوئی براہِ راست تبصرہ نہیں کیا گیا۔ البتہ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "شینہوا" کے مطابق صدر شی جن پنگ نے حالیہ دنوں میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے گفتگو میں ایران-اسرائیل کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیا۔

چین اور ایران کے درمیان طویل مدتی اسٹریٹجک تعلقات قائم ہیں، جن کی بنیاد امریکہ کی بالادستی کی مخالفت اور عالمی طاقت کے توازن کی نئی شکل پر ہے۔ ایران، چین کے لیے توانائی کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے، جو روزانہ تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل چینی ریفائنریوں کو فراہم کرتا ہے۔

Watch Live Public News

کونٹینٹ پروڈیوسر