چین سے ایران کی جانب پراسرارکارگوپروازیں، کیا جنگی سازوسامان منتقل کیا؟

چین سے ایران کی جانب پراسرارکارگوپروازیں، کیا جنگی سازوسامان منتقل کیا؟
کیپشن: چین سے ایران کی جانب پراسرارکارگوپروازیں، کیا جنگی سازوسامان منتقل کیا؟

ویب ڈیسک: (علی زیدی) اسرائیل کے ایران پر حملے کے اگلے ہی روز چین سے ایک کارگو طیارہ روانہ ہوا، اور اس کے بعد لگاتار تین دنوں میں مزید دو پروازیں روانہ ہوئیں — ایک ساحلی شہر سے اور ایک شنگھائی سے۔ ان پروازوں نے شمالی چین سے مغرب کی طرف پرواز کی، قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان سے گزرتے ہوئے جیسے ہی ایران کے قریب پہنچیں، ریڈار سے غائب ہو گئیں۔

ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ پروازوں کے منصوبے میں ان کا حتمی مقام لکسمبرگ درج تھا، لیکن طیارے یورپی فضاؤں کے قریب بھی نہیں پہنچے، جس پر بین الاقوامی سطح پر تشویش جنم لے چکی ہے کہ ان طیاروں میں چین سے ایران کی جانب کیا منتقل کیا گیا۔

ماہرینِ ہوا بازی کا کہنا ہے کہ ان پروازوں میں استعمال ہونے والے بوئنگ 747 طیارے اکثر اوقات جنگی سازوسامان اور حکومتی دفاعی معاہدوں کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اس لیے ان کی نوعیت خاص توجہ کی مستحق ہے۔

چین اور ایران قریبی اسٹریٹجک اتحادی سمجھے جاتے ہیں، جو امریکی بالادستی پر مبنی عالمی نظام کی مخالفت اور کثیر قطبی سفارت کاری کے حامی ہیں۔ ایران چین کے لیے ایک اہم توانائی فراہم کنندہ بھی ہے، جو روزانہ دو ملین بیرل تک تیل برآمد کرتا ہے۔

ماہر امورِ مشرق وسطیٰ آندریا گیسلی کا کہنا ہے کہ ایران میں نظام کی ممکنہ ناکامی نہ صرف خطے میں عدم استحکام پیدا کرے گی بلکہ چین کے توانائی مفادات کو بھی خطرے میں ڈالے گی، اس لیے بیجنگ کسی نہ کسی انداز میں تہران کی مدد کا خواہاں ہو سکتا ہے۔

چین ماضی میں بھی ایران کو بین الاقوامی دباؤ کے باوجود دفاعی مواد فراہم کرتا رہا ہے، جیسے کہ بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی۔ تاہم موجودہ صورتحال میں، ماہرین کے مطابق چین براہِ راست مداخلت سے گریز کرے گا تاکہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات مزید کشیدہ نہ ہوں۔

اسرائیلی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز سے منسلک تجزیہ کار توویا گیرنگ نے کہا کہ اگرچہ چین کے جانب سے دفاعی سازوسامان کی کھلی منتقلی کا امکان کم ہے، مگر اسے مکمل طور پر نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری جانب، لکسمبرگ کی کارگو کمپنی "کارگولوکس" نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی پروازوں نے ایرانی فضائی حدود استعمال نہیں کیں، مگر یہ نہیں بتایا کہ ان طیاروں میں کیا سامان لادا گیا تھا۔ کارگو کی مکمل تفصیلات عام نہیں کی جاتیں، اور بعض اوقات خطرناک مواد تجارتی سامان کے لیبلز میں چھپایا بھی جاتا ہے۔

یاد رہے کہ یورپی حکام نے ماضی میں ایسے کئی مواقع پر چین کی جانب سے ہتھیار بھیجنے کی کوششوں کو بے نقاب کیا ہے، جیسے کہ ڈرون پرزوں کو ونڈ ٹربائن کے حصے ظاہر کر کے۔

Watch Live Public News

کونٹینٹ پروڈیوسر