اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں غزہ جنگ کے بعد فلسطینی قیدیوں پر منظم تشدد کا انکشاف

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں غزہ جنگ کے بعد فلسطینی قیدیوں پر منظم تشدد کا انکشاف
کیپشن: اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں غزہ جنگ کے بعد فلسطینی قیدیوں پر منظم تشدد کا انکشاف

ویب ڈیسک: اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانی نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ جنگ کے بعد اسرائیل کی جانب سے فلسطینی قیدیوں پر منظم اور وسیع پیمانے پر تشدد کیا جا رہا ہے، جو "اجتماعی انتقام" کی پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار کیے گئے فلسطینیوں کو جسمانی و ذہنی تشدد، جنسی زیادتی، بھوک، طبی سہولیات کی کمی اور غیر انسانی حالات کا سامنا رہا۔

رپورٹ، جو 300 سے زائد گواہیوں اور شواہد پر مبنی ہے، کے مطابق اس عرصے میں گرفتاریوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور اب تک 18 ہزار 500 سے زائد فلسطینیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں کم از کم 1,500 بچے شامل ہیں۔ تقریباً 9 ہزار افراد تاحال قید ہیں جبکہ 4 ہزار سے زائد جبری گمشدگی کا شکار بتائے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حراستی نظام "ذلت، جبر اور خوف" کے منظم ڈھانچے میں تبدیل ہو چکا ہے۔

فرانسسکا البانی نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل فوری طور پر تشدد بند کرے اور عالمی برادری فلسطینی علاقوں کی تباہی روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے بھی مطالبہ کیا کہ اسرائیلی وزیر دفاع Israel Katz، وزیر قومی سلامتی Itamar Ben-Gvir اور وزیر خزانہ Bezalel Smotrich کے خلاف وارنٹ گرفتاری پر غور کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیل نے رپورٹ مسترد کرتے ہوئے اسے تعصب پر مبنی قرار دیا ہے۔

یہ رپورٹ پیر کو United Nations Human Rights Council میں پیش کی جائے گی۔ واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندگان آزاد ماہرین ہوتے ہیں اور براہِ راست ادارے کی نمائندگی نہیں کرتے۔

Watch Live Public News