ویب ڈیسک : حماس اور اسرائیل کے درمیان آج ہفتے کے روز یرغمالیوں اور قیدیوں کا 7واں تبادلہ ۔۔۔ شیری بیباس کی میت کی تصدیق ہوگئی ۔ حماس نے جنگ بندی معاہدے کے تحت آخری زندہ بچ جانے والے 6 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردیا۔
رپورٹ کے مطابق آج ہفتے کے روز پہلی دفعہ غزہ کے دو مختلف مقامات سے یرغمالیوں کو رہا کردیا گیا۔ جنوبی غزان اور نصیرات سے یرغمالیوں کی رہائی عمل میں لائی گئی۔

جبکہ ایورا مینگیستو اور تل شوہم کو رفح سے رہا کردیا گیا۔ دیگر یرغمالیوں میں ایلیا کوہن، ہشام السید، عمر وینکرٹ اور عمر شیم توو شامل ہیں۔



زندہ یرغمالیوں کی آخری کھیپ
حماس یہ تصدیق کر چکی ہے کہ وہ مقررہ پلان کے مطابق آج 6 اسرائیلی یرغمالیوں کو آزاد کرے گی۔ یہ زندہ قیدیوں کی آخری کھیپ ہے جن کو فائر بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے اختتام پر یکم مار چ تک واپس اسرائیل کے حوالے کیا جانا مقرر ہے۔
602 فلسطینی آزاد ہوں گے
دوسری طرف اسرائیلی یرغمالوں کے عوض 602 فلسطینی گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے گا جن میں 50 عمر قید کی سزا کاٹنے والے شامل ہیں۔ انجمن کے مطابق 108 قیدیوں کو فلسطینی اراضی سے بے دخل کر دیا جائے گا۔
جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک 22 یرغمالوں کو اسرائیل کے حوالے کیا جا چکا ہے جن میں تین لاشیں شامل ہیں۔ اس کے مقابل 1100 سے زیادہ فلسطینی گرفتار شدگان کو رہا کیا گیا ہے۔
فائر بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں جو یکم مارچ کو اختتام پذیر ہو گا، حماس کی جانب سے 33 یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آنا تھی جن میں آٹھ لاشیں شامل ہیں۔ اس کے مقابل اسرائیل کی جیلوں سے 1900 فلسطینی رہا کیے جائیں گے۔
قیدیوں کا باپ، فلسطینی نائل برغوثی بھی آج رہا ہوگا

آج رہا کئے جانیوالے فلسطینی قیدیوں میں سے سب سے اہم قیدی نائل البرغوثی ہیں جنہوں نے اسرائیلی جیلوں میں اپنی زندگی کے 45 سال گذارے ہیں ۔
خاندان نے مزید کہا کہ البرغوثی نے كتسيعوت (النقب) جیل سے اپنی اہلیہ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ انھیں جمعرات یا سنیچر کو رہا کر دیا جائے گا۔
فلسطینیوں کے لیے نائل البرغوثی ایک انتہائی اہم شخصیت ہیں کیونکہ انھوں نے تقریباً 45 سال اسرائیلی جیلوں میں گزارے ہیں۔ یہ کسی بھی فلسطینی قیدی کا اسرائیلی جیل میں گزارا گیا سب سے طویل عرصہ ہے۔
فلسطینی قیدیوں کے امور کی اتھارٹی ہیئت شؤون الاسری کے مطابق، یہیں سے انھوں نے فلسطینی حلقوں میں ’ قیدیوں کے باپ‘ کا لقب حاصل کیا۔
فرانزک ٹیسٹ کے بعد شیری بیباس کی لاش کی تصدیق
جمعہ کو غزہ سے اسرائیل واپس آنے والی لاش کی فرانزک جانچ کے بعد تصدیق ہو گئی کہ اس کا تعلق شیری بیباس سے ہے۔
ابو کبیر کے ایل گرینبرگ انسٹی ٹیوٹ آف فرانزک میڈیسن نے تصدیق کی کہ جمعہ کی رات اسرائیل منتقل کی گئی باقیات شیری بیباس کی ہیں۔
یادرہے جمعرات کے روز حماس نے پہلی بار 4 اسرائیلیوں کی لاشوں کے تابوت حوالے کیے تھے جن میں دو بچے ارییل بیباس اور کفیر بیباس ، ان کی ماں شیری بیباس اور ایک 80 سالہ شخص شامل ہے۔ اغوا کے وقت دونوں بچوں کی عمریں بالترتیب چار اور ساڑھے آٹھ ماہ تھیں۔کفیر 251 یرغمالیوں میں سب سے کم سن یرغمالی تھا۔
تاہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو حکام نے اعلان کیا کہ جمعرات کے روز حوالے کی جانے والی لاشوں میں شیری بیباس نہیں تھی۔ اسرائیل کے مطابق چوتھی لاش غزہ کی کسی عورت کی ہے۔
حماس ایک ہی دفعہ سب اسرائیلی یرغمال رہا کرنےکے لئے تیار
حماس نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے دوران "ایک باری" میں ہی بقیہ تمام قیدیوں کو رہا کرنے پر تیار ہے۔ دوسرے مرحلے کا آغاز دو مارچ سے ہونا ہے۔
معاہدے کے اس دوسرے مرحلے میں توقع ہے کہ غزہ میں جنگ مکمل طور پر اختتام پذیر ہو جائے گی۔ تاہم اس مرحلے کے لیے مذاکرات ابھی تک شروع نہیں ہو سکے ہیں۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان پہلے مرحلے میں خلاف ورزی کے الزامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔
معاہدے کا تیسرا اور آخری مرحلہ تباہ حال غزہ کی پٹی کی تعمیر نو سے متعلق ہو گا۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے میں 1211 افراد مارے گئے تھے۔ حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کر دی۔ اس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 48319 فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔