ٹرمپ انتظامیہ نے مارٹن لوتھرکنگ قتل سے متعلق خفیہ ریکارڈ جاری کردیا

ٹرمپ انتظامیہ نے مارٹن لوتھرکنگ قتل سے متعلق خفیہ ریکارڈ جاری کردیا
کیپشن: ٹرمپ انتظامیہ نے مارٹن لوتھرکنگ قتل سے متعلق خفیہ ریکارڈ جاری کردیا

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے معروف انسانی حقوق رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قتل سے متعلق 230,000 صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کر دی ہیں، جن میں ایف بی آئی کی نگرانی کی رپورٹس اور سی آئی اے کے خفیہ ریکارڈ شامل ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ ریکارڈ 1977 سے عدالتی حکم کے تحت عوامی رسائی سے روکے گئے تھے، تاہم اب انہیں قومی سلامتی کے اداروں کے تعاون سے منظر عام پر لایا گیا ہے۔

کنگ کے اہلِ خانہ، خصوصاً ان کے دو زندہ بچوں مارٹن لوتھر کنگ III اور برنیس کنگ نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان فائلز کو "ہمدردی، احتیاط اور احترام" کے ساتھ دیکھا جائے تاکہ ان کے والد کی میراث کو نقصان نہ پہنچے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد کو ایف بی آئی کے اس وقت کے سربراہ جے ایڈگر ہوور کی سربراہی میں ایک "جارحانہ اور گمراہ کن مہم" کے تحت نشانہ بنایا گیا، جس نے ان کی نجی زندگی اور وقار کو شدید متاثر کیا۔

اہلِ خانہ نے 1999 کے ایک شہری مقدمے کا حوالہ بھی دیا جس میں جیوری نے قرار دیا تھا کہ کنگ کا قتل کسی اکیلے نسل پرست فرد کی کارروائی نہیں، بلکہ ایک بڑی سازش کا نتیجہ تھا۔

دوسری جانب، کنگ کی رشتہ دار الویدا کنگ نے ریکارڈ کے اجرا کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے "شفافیت کی جانب تاریخی قدم" کہا اور صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔

نئے جاری کردہ ریکارڈز میں ایف بی آئی کی اندرونی یادداشتیں اور سی آئی اے کی وہ دستاویزات شامل ہیں جن میں قاتل جیمز ارل رے کی تلاش اور نگرانی کا ذکر ہے۔

یاد رہے کہ کنگ کو 1968 میں میمفس شہر میں اس وقت گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا جب وہ صرف 39 برس کے تھے۔ جیمز ارل رے نے جرم قبول کر لیا تھا مگر بعد میں دعویٰ کیا کہ اسے سازش کے تحت پھنسایا گیا۔ وہ 1998 میں جیل میں انتقال کر گیا۔

ناقدین نے اس اقدام کو جیفری ایپسٹین کیس سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا، تاہم امریکی اٹارنی جنرل پامیلا بونڈی کا کہنا ہے کہ “قوم کو یہ حق ہے کہ وہ جان سکے کہ ایک عظیم رہنما کے قتل کے پیچھے کیا محرکات تھے۔”

Watch Live Public News