ویب ڈیسک: چین نے ایران پر امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی حملے سے مشرقِ وسطیٰ کے کشیدہ حالات مزید بدتر ہوں گے، ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملہ قابلِ مذمت ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ چین فریقین سے حملے فوری روکنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
خیال رہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے امریکا بھی اسرائیل کی جنگ میں شامل ہو گیا، امریکا نے فردو، نطنز اور اصفہان جوہری تنصیبات پر بمباری کی۔
اس سے قبل کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے امریکی بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی اور ایک خطرناک اضافہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ قدم انسانیت کو ایک ایسے بحران میں دھکیلتا ہے جس کے نتائج ناقابل واپسی ہوسکتے ہیں۔
میکسیکو کی وزارتِ خارجہ نےسوشل ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ 'ہماری خارجہ پالیسی کے آئینی اصولوں اور ملک کے پُرامن مؤقف کے مطابق، ہم خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی اپیل دہراتے ہیں، ریاستوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی بحالی ہماری اعلیٰ ترین ترجیح ہے۔'
نیوزی لینڈ وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے کہا کہ 'ہم گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والی پیش رفت اور صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران میں جوہری تنصیبات پر حملوں کا نوٹس لیتے ہیں، مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائیاں انتہائی تشویش ناک ہیں، مزید بگاڑ سے بچنا بہت ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 'نیوزی لینڈ پُرزور انداز میں سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، اور تمام فریقین سے مذاکرات کی طرف لوٹنے کی اپیل کرتا ہے، سفارت کاری ہی پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے، نہ کہ مزید فوجی کارروائی۔'