(ویب ڈیسک ) فافن نے ممبران قومی اسمبلی کی 19ویں سیشن کی رپورٹ جاری کردی ہے۔
فافن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے 19ویں اجلاس میں ایک چوتھائی ارکان 82 نے کسی بھی نشست میں شرکت نہیں کی، تین نشستوں پر مشتمل اجلاس یکم تا 5 ستمبر 2025 تک جاری رہا، کل 111 ارکان 34 فیصد نے اجلاس کی تمام نشستوں میں شرکت کی۔
رپورٹ کے مطابق دوسری نشست میں سب سے زیادہ حاضری، 200 ارکان (61 فیصد) شریک ہوئے،تیسری نشست میں سب سے کم حاضری، صرف 159 ارکان (49 فیصد) موجود تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 216 ارکان 66 فیصد نے کم از کم ایک نشست میں شرکت نہیں کی،غیر حاضر ارکان میں سے 50 نے چھٹی کی درخواستیں جمع کرائیں۔
فافن رپورٹ کے مطابق 166 ارکان بغیر کسی اجازت نامے کے غیر حاضر رہے، چار وفاقی وزراء اور ایک وزیرِ مملکت نے تمام نشستوں میں شرکت کیم وزیرِاعظم کسی بھی نشست میں شریک نہیں ہوئے، قائدِ حزبِ اختلاف کی نشست خالی رہی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین ارکان کی حاضری مرد ارکان کے مقابلے میں زیادہ رہی،35 خواتین ارکان 49 فیصد نے تمام نشستوں میں شرکت کی،12 خواتین ارکان 17 فیصد کسی نشست میں شریک نہیں ہوئیں،70 مرد ارکان 28 فیصد نے کسی نشست میں شرکت نہیں کی۔
فافن رپورٹ کے مطابق پنجاب کے 98 ارکان 58 فیصد نے نصف سے زیادہ نشستوں میں شرکت کی،خیبر پختونخوا کے 40 ارکان 75 فیصد نے نصف سے زیادہ نشستوں میں شرکت کی،اسلام آباد کے تمام ارکان نے نصف سے زیادہ نشستوں میں شرکت کی،بلوچستان کے 11 ارکان 55 فیصد نے نصف سے زیادہ نشستوں میں شرکت کی،سندھ کے 41 ارکان 51 فیصد نے نصف سے زیادہ نشستوں میں شرکت کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل، مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (پاکستان) کے زیادہ تر ارکان نے ایک سے زائد نشستوں میں شرکت کی،مجلسِ وحدت المسلمین اور نیشنل پارٹی کے واحد نمائندگان نے مکمل حاضری دی، وفاقی وزراء میں سے 10 اور وزرائے مملکت میں سے 5 نے کسی بھی نشست میں شرکت نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق سیلابی صورتحال پر بحث کے دوران وزراء کی غیر حاضری نے ان کی ذمہ داریوں پر سوال اٹھا دیے۔وزراء برائے پبلک افیئرز، ہاؤسنگ اینڈ ورکس، غربت کے خاتمے، دفاع، اور وزیرِ مملکت برائے ریلوے نے مکمل شرکت کی۔