(ویب ڈیسک )حال ہی میں جاپان کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم کو ایک غیر روایتی لیکن دلچسپ تحقیق پر ایل جی نوبل انعام سے نوازا گیا، جس میں یہ ثابت کیا گیا کہ گایوں پر زیبرا جیسی سفید دھاریاں بنانے سے انہیں کاٹنے والی مکھیوں سے مؤثر تحفظ ملتا ہے۔
ایل جی نوبل انعام(Lg Noble Prize) ایک طنزیہ اعزاز ہوتا ہے جو ایسے سائنسی کارناموں کو دیا جاتا ہے جو پہلے تو ہنسی کا باعث بنتے ہیں، مگر بعد میں سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ انعام مزاحیہ لگ سکتا ہے، لیکن اس کے لیے حقیقی سائنسی تحقیق ضروری ہوتی ہے۔
اس سال جاپان کے آئچی ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر کے محققین کو یہ انعام اس تحقیق پر دیا گیا جس میں انہوں نے گائے پر پانی سے بنے پینٹ کے ذریعے سفید دھاریاں بنائیں اور دیکھا کہ ان پر کاٹنے والی مکھیوں کی تعداد تقریباً 50 فیصد کم ہو گئی، بہ نسبت ان جانوروں کے جن پر یا تو سیاہ دھاریاں تھیں یا کوئی پینٹ نہیں تھا۔
کاٹنے والی مکھیاں مویشیوں کے لیے سخت نقصان دہ ہوتی ہیں، کیونکہ وہ نہ صرف ان کے چر نے اور خوراک کو متاثر کرتی ہیں بلکہ ذہنی دباؤ کا باعث بھی بنتی ہیں، جس سے گوشت کے لیے پالے جانے والے جانوروں کا وزن اور دودھ دینے والی گائے کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
عام طور پر کسان ان مکھیوں سے بچاؤ کے لیے کیمیکل اسپرے کا سہارا لیتے ہیں، مگر اس سے نہ صرف مکھیوں میں مزاحمت پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے بلکہ گوشت اور دودھ میں بھی کیمیکل کے اثرات آ سکتے ہیں۔ ایسے میں اگر چند دھاریاں اس مسئلے کو کم کر دیں تو یہ ایک خوش آئند متبادل ہو سکتا ہے۔
جاپانی ماہرین کی یہ تحقیق اس بین الاقوامی مطالعے کی بنیاد پر کی گئی تھی، جسے ہنگری، اسپین، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں نے کیا تھا۔ اس میں دیکھا گیا تھا کہ سفید گھوڑوں پر مکھیاں کم بیٹھتی ہیں، بہ نسبت گہرے رنگ کے گھوڑوں کے۔ اگرچہ اس کی ٹھوس سائنسی وجہ ابھی تک سامنے نہیں آئی، مگر فرق اتنا نمایاں تھا کہ مزید تحقیق کو ضروری سمجھا گیا۔

چونکہ پانی پر مبنی پینٹ چند ہفتوں میں دھل جاتا ہے، اس لیے اگر کسانوں کے لیے اس طریقے کو واقعی قابلِ عمل بنانا ہے تو کوئی پائیدار حل تلاش کرنا ہوگا۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، تب تک کھیتوں میں " زیبرا گائے" دیکھنا ممکن نہیں۔