ویب ڈیسک: چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھاتے ہوئے نئی نسل کے اے آئی ماڈلز اور نئی چِپ تیار کرنے کا اعلان کردیا، جس کے بعد ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج میں کمپنی کے حصص کی قیمت 5 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی۔
رائٹرز کے مطابق علی بابا نے سالانہ کانفرنس میں بتایا کہ وہ ایسا اے آئی ماڈل تیار کر رہی ہے جس میں 5 سے 10 ٹریلین پیرامیٹرز ہوں گے۔ کمپنی کے مطابق نئے ماڈلز کا مقصد پیچیدہ اور طویل کام محدود انسانی مداخلت کے ساتھ انجام دینا ہے۔
چیف ایگزیکٹو ایڈی وو کے مطابق کمپنی کی ٹیم Qwen 4 پر کام کر رہی ہے، جبکہ مستقبل کے Qwen 4.5 اور Qwen 5 ماڈلز میں پیرامیٹرز کی تعداد 5 سے 10 ٹریلین تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔
علی بابا نے نئی اے آئی چِپ ژین وو V900 بھی متعارف کرائی، جس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ گزشتہ ماڈل M890 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ کارکردگی فراہم کرتی ہے۔ چِپ کو بڑے اے آئی ماڈلز کی تربیت اور انہیں چلانے کے لیے بڑے کلسٹرز میں استعمال کیا جاسکے گا۔
کمپنی کے مطابق V900 کی بڑے پیمانے پر تیاری اور تجارتی فروخت 2027 کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی برآمدی پابندیوں کے باعث چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں مقامی اے آئی چپس اور پروسیسرز کی تیاری پر توجہ بڑھا رہی ہیں۔