افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی

 افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی
کیپشن: افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی

ویب ڈیسک: افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی آنے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔

افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF)، نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ (NIF)، افغان یونائیٹڈ فرنٹ (AUF) اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) کی جانب سے مختلف صوبوں میں طالبان سکیورٹی اہلکاروں اور چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے دعوے کیے گئے ہیں۔ افغان یونائیٹڈ فرنٹ کے مطابق 21 ستمبر کو بادغیس کے ضلع جوند میں گھات لگا کر کی گئی کارروائی میں طالبان کا ایک اہلکار ہلاک ہوا، جبکہ اس کی کلاشنکوف بھی قبضے میں لے لی گئی۔

AUF نے دعویٰ کیا ہے کہ 18 ستمبر کو ننگرہار کے شہر جلال آباد کے نواحی علاقے میں ایک ٹارگٹڈ حملے کے دوران طالبان انٹیلی جنس کا ایک اہلکار ہلاک ہوا۔

اسی گروہ کے مطابق 16 ستمبر کو قندھار شہر کے باغِ پل بازار میں کی گئی کارروائی میں طالبان کا ایک اہلکار ہلاک ہوا۔

دوسری جانب افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) کے مطابق 16 ستمبر کو کابل کے علاقے سرائے شمالی میں طالبان کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو طالبان اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

20 ستمبر کو قندھار میں نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے بھی ایک ٹارگٹڈ کارروائی کا دعویٰ کیا۔ تنظیم کے مطابق قندھار کے صوبائی سکیورٹی کمانڈر عبدالاحد، المعروف مولانا طالب، کے گیسٹ ہاؤس کو نشانہ بنایا گیا۔ نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ کا دعویٰ ہے کہ کارروائی میں سکیورٹی کمانڈر کے چار محافظ ہلاک جبکہ دو شدید زخمی ہوئے۔

نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے طالبان کے خلاف اپنی سیاسی اور تنظیمی مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کی قیادت میں اہم تقرری
دوسری جانب نیشنل ریزسٹنس فرنٹ افغانستان (NRF) کی قیادت کی جانب سے سینئر کمانڈر صالح محمد ریگستانی کو ملٹری ہیڈکوارٹر کا کمانڈر جنرل آف آپریشنز مقرر کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

صالح محمد ریگستانی نے طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے طالبان حکومت پر افغان شہریوں کے گھروں پر چھاپوں، من مانے گرفتاریوں، بغیر مقدمہ قید اور انٹیلی جنس مراکز میں مبینہ تشدد کے الزامات عائد کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی حکمرانی کے دوران افغانستان کے وسائل مبینہ طور پر لوٹ مار کا شکار ہوئے، جبکہ ان کے بقول دہشت گرد گروہوں کو بھی کارروائیوں کے لیے کھلی چھوٹ حاصل رہی۔

صالح محمد ریگستانی کے مطابق افغانستان کے مشرق، مغرب، شمال اور جنوب میں طالبان کے خلاف مختلف مزاحمتی محاذ سرگرم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ دیگر مزاحمتی گروہوں کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت جاری رکھے گا۔

Watch Live Public News