مصطفیٰ عامر قتل کیس کی تحقیقات جاری، مشہور اداکار کے بیٹے کا نام بھی سامنے آگیا

مصطفیٰ عامر قتل کیس کی تحقیقات جاری، مشہور اداکار کے بیٹے کا نام بھی سامنے آگیا

(ویب ڈیسک ) مصطفیٰ عامر قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں مشہور اداکار کے بیٹے کا نام بھی سامنے آگیا۔

پوش علاقے سے گرفتار مشہور ٹی وی اداکار ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن کے خلاف اسپیشلائزڈ انویسٹی گیشن یونٹ میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ایس آئی یو پولیس کے مطابق اداکار ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن سے غیر ملکی برانڈ کی منشیات ملی ہے، ساحر حسن گزشتہ 2 سال سے منشیات فروخت کررہا تھا۔

ملزم ساحر حسن کے قبضے سے 50 لاکھ روپے مالیت کی منشیات ملی ہے اور وہ ارمغان کو بھی منشیات فروخت کرتا تھا۔

 ملزم ساحر حسن نے تفتیش میں اہم انکشافات کیے ہیں، ساحر حسن نے بتایا کہ وہ گزشتہ دو سال سے منشیات فروخت کررہا ہے۔ ملزم نے بتایا کہ وہ بازل اور یحییٰ نامی منشیات فروشوں سے ڈرگز حاصل کرکے شہر کے پوش علاقوں میں فروخت کرتا ہے۔

ایس آئی یو پولیس کے مطابق ملزم ساحر حسن کو ڈیفنس فیز 6 خیابان راحت سے گرفتار کیا گیا تھا، ملزم کے خلاف منشیات کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

دوسری جانب    تفتیشی حکام ساحر حسن کو لیکر سٹی کورٹ پہنچے، ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ کورٹ نمبر 3 ضلع ساؤتھ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اداکار ساجد حسن بھی سٹی کورٹ پہنچے۔

ملزم کے وکیل کا کہنا ہے کہ  درخشان تھانے کی پولیس ساحر کو پھنسا رہی ہے،  ساحر احمد نے 2022 میں درخشاں پولیس کے خلاف کیس بھی فائل کیا،  درخشان تھانے کی پولیس کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھی۔

بعد ازاں عدالت کی جانب سے ملزم ساحر احمد کو ایک روز جسمانی ریمانڈ پر ایس آئی یو کے حوالے کردیا گیا۔

 گزشتہ روز ملزم ساحر احمد کی گرفتاری کا معاملہ، ایس آئی یو کا موقف بھی سامنے آگیا .  اسپیشل انویسٹیگیشن یونٹ نے بین الصوبائی منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی  کرتے ہوئے ڈیفنس و گزری میں چھاپے مارے,  چھاپے کے دوران ملزمان سید ساہر حسن اور سنیل ساگر کو گرفتار کیا گیا. گرفتار ملزمان سے چرس کی پانچ چھوٹی تھیلیاں، ویڈ کے پانچ پیکٹ، شراب کی دو لیٹر بوتل اور دو عدد کین بیر برآمد ہوئے. ویڈ کا وزن 557 گرام اور چرس کا وزن 250 گرام ہے.

 ملزمان ملک کے مختلف علاقوں سے منشیات منگوا کر ڈیفنس اور گزری میں سپلائی کرتے تھے.ملزمان کے خلاف  نارکوٹکس کنٹرول ترمیم شدہ ایکٹ اور امتناع منشیات ایکٹ کے تحت الگ الگ مقدمات  درج کیے گئے ہیں۔

Watch Live Public News