ویڈیو: تیونس کے صدر نے امریکی ایلچی کو غزہ کے بچوں کی دل دہلا دینے والی تصاویر دکھا دیں  

ویڈیو: تیونس کے صدر نے امریکی ایلچی کو غزہ کے بچوں کی دل دہلا دینے والی تصاویر دکھا دیں  

(ویب ڈیسک ) تیونس کے صدر قیس سعید نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے عرب، مشرق وسطیٰ اور افریقی امور مسعد باؤلوس سے ملاقات کے دوران غزہ میں بھوک سے بلکتے بچوں کی انتہائی افسوسناک تصاویر پیش کیں۔ یہ بات تیونس کی صدارتی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہی گئی۔  

تیونس کے ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں دکھایا گیا کہ قیس سعید نے قرطاج صدارتی محل میں مسعد باؤلوس کا استقبال کیا، اور پھر انہیں غزہ کے بھوک سے نڈھال بچوں کی متعدد تصاویر دکھائیں۔ ایک تصویر میں ایک بچہ روتے ہوئے چمچ سے ریت کھا رہا ہے۔  

قیس سعید نے باؤلوس سے کہاکہ "مجھے یقین ہے کہ آپ ان تصاویر سے واقف ہوں گے۔ یہ بچہ رو رہا ہے، اور ریت کھا رہا ہے، مقبوضہ فلسطین میں… 21ویں صدی میں۔ اسے کھانے کے لیے کچھ اور نہیں ملا۔"

اس کے بعد انہوں نے ایک اور تصویر دکھائی جس میں ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار تھا اور اس کی ہڈیاں باہر نکلی ہوئی تھیں۔  

صدر نے کہا کہ  "یہ بچہ بھوک سے مر رہا ہے۔ آپ نے یقیناً ایسی کئی تصاویر دیکھی ہوں گی،"

تیسری تصویر دکھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  "یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ یہ انسانیت کے خلاف ایک جرم ہے۔ یہ بچہ موت کے دہانے پر ہے، شاید مر چکا ہو۔"  

انہوں نے مزید کہا کہ  "یہ ایک اور بچہ ہے، جسے ایک قطرہ پانی تک نہیں ملا۔ یہ بھی ناقابلِ قبول ہے۔"

قیس سعید نے عالمی قانون کی حیثیت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ  "کیا یہی بین الاقوامی قانونی حیثیت ہے؟ یہ روز بروز ختم ہوتی جا رہی ہے۔ جب ہم فلسطینی عوام کی یہ دردناک حالت ہر دن، ہر لمحہ دیکھتے ہیں، تو اس قانون کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔"

انہوں نے غزہ سے باہر فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی حملوں کی بھی شدید مذمت کی۔ قیس سعید نے کہا  کہ "فلسطینی صرف غزہ میں نہیں، بلکہ پورے فلسطین میں بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں۔"

انہوں نے ایک لڑکی کی تصویر دکھائی جو پانی پی رہی تھی، اور کہا کہ  "اب انسانیت کو جاگ جانا چاہیے اور ان جرائم کا خاتمہ کرنا ہوگا۔"

جب انہوں نے ایک تصویر دکھائی جس میں فلسطینی شہری مردہ بچوں کی لاشیں اٹھائے ہوئے تھے، تو صدر سعید نے کہا کہ  "یہ معصوم بچے ہیں۔ فلسطینیوں نے کیا قصور کیا ہے کہ انہیں اپنے حق خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے؟ یہ سب ناقابلِ برداشت مناظر ہیں—اور ہمیں اس ظلم کا خاتمہ کرنا ہوگا۔"

انہوں نے ان مناظر کو "پوری انسانیت کے لیے جھنجھوڑ دینے والے" قرار دیا اور اسرائیلی افواج پر فلسطینی عوام کے خلاف مظالم کا الزام لگایا۔  

"یہ جنگ دراصل شکست کو قبول کروانے کی ایک کوشش ہے—لیکن آزاد قومیں کبھی شکست قبول نہیں کرتیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ تصاویر صرف چند مثالیں ہیں۔ آپ ہر وقت نسل کشی اور قحط ختم کرنے کی اپیلیں سنتے رہتے ہیں۔"

قیس سعید نے زور دیا  کہ  "آج فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ فلسطینی عوام ہی غزہ اور مغربی کنارے سمیت پوری فلسطینی سرزمین کے اصل مالک ہیں، جسے اسرائیل نے تقسیم کر دیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ  "صیہونی افواج کی سرپرستی میں آبادکاروں نے مغربی کنارے کی زمین پر قبضہ کیا ہے اور فلسطینی علاقوں کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔"

سعید نے اسرائیلی افواج پر "خوفناک مظالم" کے الزامات لگائے اور کہا کہ  "ہزاروں افراد کو قتل کیا گیا، ہزاروں کو ختم کر دیا گیا، اور مزید ہزاروں کو زبردستی بے دخل کر کے ایسے مقامات پر جمع کیا گیا جنہیں بعد میں نشانہ بنایا گیا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ  "پورے فلسطین میں رہائشی کمپلیکس تباہ کیے گئے ہیں، صرف غزہ میں نہیں۔"

صدر قیس سعید نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ  "پوری فلسطینی سرزمین فلسطینی عوام کی ہے، جب تک کہ القدس کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہ ہو جائے۔"

میڈیا کیمروں کے سامنے، مسعد باؤلوس کے ہمراہ کھڑے ہو کر، قیس سعید نے تقریباً چھ منٹ تک خطاب کیا اور تصاویر دکھاتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے بھوک کو نسل کشی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی شدید مذمت کی۔ باؤلوس خاموشی سے سنتے رہے، کبھی سر ہلاتے اور کبھی تصاویر اور صدر کے چہرے کی جانب دیکھتے رہے۔

خیال رہے کہ منگل کے روز غزہ کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا کہ اکتوبر 2023 سے اب تک قحط اور غذائی قلت کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 101 تک پہنچ چکی ہے، جن میں 80 بچے شامل ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 15 فلسطینیوں کی اموات ہوئیں، جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔

اتوار کے روز غزہ کے  سرکاری  میڈیا آفس نے خبردار کیا تھا کہ علاقے میں مسلسل 140 دن سے زائد سرحدی بندش کے بعد "اجتماعی ہلاکتوں" کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

2 مارچ سے اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عملدرآمد روک رکھا ہے اور غزہ کی سرحدیں بند کر دی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں انسانی امداد لے جانے والے ٹرک سرحد پر ہی پھنسے ہوئے ہیں۔

اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل نے غزہ میں 59,100 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اسرائیلی فوجی کارروائی نے غزہ کو تباہ کر دیا ہے، صحت کا نظام مفلوج ہو چکا ہے اور شدید غذائی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

گزشتہ سال  نومبر میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (ICC) نے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) میں غزہ پر جنگ کے سلسلے میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا کر رہا ہے۔

Watch Live Public News