ویب ڈیسک: بھارت میں انسانی حقوق کے علمبرداروں کو بڑھتے ہوئے خطرات اور قانونی دباؤ کا سامنا ہے.
یو این ایچ آر سی نے بھارت کے مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی قوانین کی مذمت کی ہے، جن میں مذہب تبدیلی اور شہریت کے قوانین شامل ہیں۔
بھارت میں ہندوتوا نظریہ پر مبنی سیاسی تقاریر اقلیتوں کے خلاف دشمنی کو بڑھاوا دیتی ہیں، جو سماجی تقسیم اور امتیاز کو گہرا کر رہی ہیں۔ بھارت میں اقلیتی گروہ تدفین کے حقوق میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں عیسائی خاندانوں کو مردہ عزیزوں کو دور دراز علاقوں میں لے جانا پڑتا ہے۔
دلت اور عیسائی کمیونٹیز بھارت میں تدفین کی جگہوں اور جنازہ کے حقوق کے لیے ذات پات کے امتیاز کا سامنا کر رہی ہیں۔ بھارت میں مسلم تدفین کی جگہوں کو منہدم اور بے حرمتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو مذہبی آزادی اور ثقافتی ورثہ کو متاثر کر رہا ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف امتیاز جاری ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش اور احتساب کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
کیپشن: عالمی جریدہ "بیفور اٹس نیوز" نے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کر دیا