بھارت کی پاکستان میں20 سالہ اسٹیٹ اسپانسرڈ دہشتگردی کے ثبوت منظرعام پر آگئے

بھارت کی پاکستان میں20 سالہ اسٹیٹ اسپانسرڈ دہشتگردی کے ثبوت منظرعام پر آگئے
کیپشن: اسکول بس حملے میں فتنہ الہندوستان ملوث ہے،سیکرٹری داخلہ

ویب ڈیسک: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف اور سیکرٹری داخلہ آفتاب درانی میڈیا کو بریفنگ دے رہے ہیں۔وفاقی سیکرٹری داخلہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خضدار اسکول بس پر دہشت گرد حملے کے پیچھے فتنہ الہندوستان کا ہاتھ ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے وفاقی سیکرٹری داخلہ کے ہمراہ نیوزکانفرنس کی۔ڈی جی آئی ایس پی آرنے واضح کیا کہ 6 اور 7 مئی کو فتنہ الہندوستان کے باپ نے 40 سویلینز کو شہید کیا۔شہدا میں 22 بچے اور عورتیں شامل ہیں۔9مئی کو لسبیلہ میں 3، 13 مئی کو نوشکی میں 4 غریب مزدوروں کو شہید کیا گیا۔21 مئی کو خضدار میں 6 بچوں کو شہید، 51 کو زخمی کیا گیا۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ یہ فتنہ الہندوستان کا حقیقی چہرہ ہے،خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے مرکز بھارت کا یہ حقیقی چہرہ ہے۔بلوچ بھی پوچھ رہے ہیں کہ دہشت گردی کا قومیت، اسلام او انسانیت سے کیا تعلق؟ فتنہ الہندوستان کا تعلق بلوچستان سے نہیں صرف بھارت سے ہے۔

ڈی جی  آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارت گزشتہ20سال سے ریاستی دہشت گردی کی پالیسی جاری رکھےہوئے ہیں۔بھارت خطےمیں امن کوسبوتاژ کررہاہے۔2009میں پاکستان نے بلوچستان میں بھارت کے ملوث ہونے کاڈوزیئراقوام متحدہ میں پیش کیا۔2016میں بھی بھارت کےدہشت گردی میں ملوث ہونےکےشواہددنیاکےسامنےرکھے۔بھارت دہشت گردوں کوفنڈزفراہم کرتاہے۔مختلف گرفتار دہشت گردوں نے بھارتی پشت پناہی کااعتراف کیا ہے۔کلبھوشن یادیو نے اپنے اعترافی بیان میں تمام ترحقائق بتائے۔

ڈی جی  آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ فتنہ الہندوستان  خضدارمیں بچوں کی شہادتوں میں ملوث ہے۔کئی بچے اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔یہ ہے بھارت کادہشت گردچہرہ۔یہ وہ بچے ہیں جنہیں 21مئی کوبھارت کےحکم پر دہشت گردی کانشانہ بنایاگیا۔ فتنہ الہندوستان جان بوجھ کرمعصوم اورنہتےپاکستانیوں کونشانہ بنارہاہے۔ فتنہ الہندوستان نے بلوچستان میں نہتے مزدوروں کاقتل عام کیا۔ فتنہ الہندوستان نے7حجاموں کودہشت گردوں کےذریعے قتل کرایا۔فتنہ الخوارج نے21مزدوروں کاقتل عام کرایا۔

ڈی جی  آئی ایس پی آر نے کہا کہ فتنہ الہندوستان نے کیچ میں2درزیوں کوقتل کرایا۔بلوچستان کے مختلف اضلاع میں محنت مزدوری کرنےوالےافرادکوقتل کرایاجارہاہے۔ فتنہ الہندوستان نےجعفرایکسپریس پرحملہ کرایا۔6اور7مئی کوفتنہ الہندوستان کااصل باپ دہشت گردی کرتاہے۔6اور7مئی کو40معصوم پاکستانیوں کوشہید کیاگیا۔خضداربس حملے میں6بچےشہید،51زخمی ہیں۔
فتنہ الہندوستان کے دہشت گردحیوانیت پراترآئے ہیں۔
ڈی جی  آئی ایس پی آرنےپریس کانفرنس میں بھارتی میجر سندیپ کی آڈیو بھی سنائی۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشت گردوں کو قیمتی اسلحہ اور سامان کون مہیا کر رہاہے۔دہشت گردوں کو فنڈنگ کون کر رہا ہے؟ ہندوستان ۔زیادہ تر اسلحہ امریکی ساختہ ہے، جو امریکا افغانستان میں چھوڑ گیا تھا۔

پریس کانفرنس کے دوران خضدار بس سکول پر حملے میں شہید اور زخمی ہونے والے طلبہ کی تصاویر بھی دکھائی گئیں۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ   فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد حیوانیت پر اتر آئے ہیں ۔پاکستان بھارت سے پہلگام واقعے کے ثبوت مانگ رہا ہے۔پاکستان نے میڈیا کو تمام وہ جگہیں دکھائیں جن سے متعلق بھارت نے الزام لگایا۔

انہوں نے کہاکہ بھارتی میڈیا پر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔بھارتی میڈیا پر بیٹھ کر پاک فوج کے افسران و جوانوں کے سروں کی قیمتیں لگائی جاتی ہیں۔دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ بھارت اور فتنہ الہند کا مکروہ چہرہ ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشتگر ڈاکٹر اللہ نذ کو بھارت میں ویزہ اور انٹری کی سہولت میسر ہے۔ فتنہ الہندوستان کے زخمی دہشت گردوں کا ہندوستان میں علاج ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کا بھارت کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔دہشتگردوں کے نیکسز کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔سرحدی علاقوں میں دہشتگردوں کے خفیہ راستوں کو بند کیا جا رہا ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت کو اب سمجھ نہیں آرہی کہ پاکستانی قوم متحد کیسے ہوئی۔ فتنہ الہندوستان کو سمجھ آچکی ہے کہ بلوچستان اب ترقی کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے۔بلوچستان میں زراعت ترقی کر رہی ہے، سینکڑوں نوجوان کالجز میں فنی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔بلوچستان کا اصل چہرہ ترقی کرتے ہوئے محب وطن پاکستانی ہیں ۔گوادر اور ریکوڈیک سمیت بلوچستان کی بلیو اکانومی فتنہ الہندوستان کو کھٹک رہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ 24 کروڑ عوام کا پانی بند نہیں کیا جا سکتا ۔کوئی پاگل ہی ہوگا جو پاکستان کا پانی بند کرنے کا سوچے گا۔مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر دونوں ملکوں میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے کرتارپور راہداری بند کرکے مذہبی آزادی پر قدغن لگائی۔ہمارا دین ہمیں کسی عبادت گاہ پر حملے کی اجازت نہیں دیتا۔بھارت نے ننکانہ صاحب پر حملے کیلئے ڈرونز بھیجے۔

قبل ازیں پریس کانفرنس کے آغاز میں وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خضدار حملے میں فتنہ الہندوستان ملوث ہے، دہشتگردوں کو خضدار حملے کے خطرناک نتائج بھگتنا ہوں گے۔

خضدار حملے میں فتنہ الہندوستان ملوث ہے: وفاقی سیکرٹری داخلہ

قبل ازیں پریس کانفرنس کے آغاز میں وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خضدار حملے میں فتنہ الہندوستان ملوث ہے، دہشتگردوں کو خضدار حملے کے خطرناک نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ خضدار میں دہشت گردوں نے بزدلانہ حملے میں سکول کے بچوں کو نشانہ بنایا جس میں 6 بجے شہید ہوئے، یہ دہشت گرد حملہ سکول بس پر نہیں ہماری اقدار پر تھا، بھارت بلوچستان میں بدامنی پھیلانا چاہتا ہے۔

Watch Live Public News