دنیا کا ’بے وقت‘ جزیرہ : جہاں گھڑی نہیں، صرف قدرت کا حکم چلتا ہے

دنیا کا ’بے وقت‘ جزیرہ : جہاں گھڑی نہیں، صرف قدرت کا حکم چلتا ہے
کیپشن: دنیا کا ’بے وقت‘ جزیرہ : جہاں گھڑی نہیں، صرف قدرت کا حکم چلتا ہے

ویب ڈیسک: دنیا بھر میں لوگ اپنی زندگی وقت کے اصولوں کے تحت گزارتے ہیں، مگر آرکٹک سرکل کے شمال میں واقع ناروے کا ایک چھوٹا سا جزیرہ ایسی جگہ ہے جہاں وقت کا تصور تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔ مچھلی پکڑنے کے لیے مشہور یہ جزیرہ اپنی منفرد طرزِ زندگی کے باعث بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس جزیرے میں گھڑی کا کوئی عملی استعمال نہیں۔ یہاں کے تقریباً 300 رہائشی روزمرہ کا معمول گھڑیوں کے بجائے قدرت کے اشاروں پر طے کرتے ہیں۔ سال کے 69 دن تک اس علاقے میں مڈ نائٹ سن افق پر قائم رہتا ہے، جس سے دن اور رات کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔

اس غیر معمولی ماحول نے مقامی لوگوں کی زندگی کو منفرد ڈھنگ دے رکھا ہے۔ یہاں برسٹ بال (فٹ بال جیسا کھیل) رات کے 2 یا 3 بجے شروع ہو جانا عام بات ہے۔ لوگ جب چاہیں جاگتے ہیں اور سمندر کا رخ کرکے مچھلی پکڑنے نکل جاتے ہیں۔

دکانیں بھی مقررہ وقت کے بغیر کھلتی اور بند ہوتی ہیں—سب کچھ دکان دار کی مرضی پر منحصر ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ نہ کھانے کا وقت دیکھتے ہیں، نہ سونے کا؛ جب بھوک لگے تو کھاتے ہیں، اور جب نیند آئے تو سو جاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں وقت صرف سیاحوں کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ سیاحوں کو اکثر دن اور رات کی پہچان میں مشکل پیش آتی ہے، جس پر مقامی لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں۔

یہ بے مثال جزیرہ اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ کچھ خطوں میں آج بھی انسانی زندگی مکمل طور پر قدرت کے اصولوں کے تابع ہے۔ یہاں روشنی ختم ہوتی ہے نہ معمولات رکते—چاہے آدھی رات کو مچھلی پکڑنا ہو یا روشن افق کے نیچے کھیلنا۔

جو لوگ روایتی زندگی کی دوڑ سے کچھ دیر کا وقفہ چاہتے ہیں، یہ ’’بے وقت‘‘ مقام ان کے لیے بہترین پناہ گاہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ جگہ یاد دلاتی ہے کہ کہیں کہیں وقت واقعی محض ایک نظریہ ہے، اور اصل حکمرانی قدرت کی ہوتی ہے۔

Watch Live Public News