(ویب ڈیسک ) امریکی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیئے لیکن حماس کی کوئی گنجائش نہیں۔
امریکی صدر نے خطاب میں کہا کہ میں بغیر ٹیلی پرامیٹر کےخطاب کروں گا،ٹیلی پرامیٹر کا م نہیں کررہا،جنرل اسمبلی میں خطاب کر کے خوشی محسوس ہورہی ہے،سال پہلے امریکا کی حالت بری تھی،میری قیادت میں دو بڑی تبدیلیاں آئیں،امریکا دنیا میں قیام امن کے لیے کردارادا کرے گا، امریکا میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہورہا ہے،آج ہم نے امریکا میں مہنگائی کو شکست دےد ی ، آج مضبوط معیشت،مضبوط ملٹری اور مضبوط دوستیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے7جنگیں رکوائی ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کرائی، میں اقوام متحدہ میں اصلاحات کرنا چاہتا ہوں، سوچتا ہوں اقوام متحدہ کو بنانے کا مقصد کیا ہے؟، ہمیں اقوام متحدہ سے کچھ نہیں ملا۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اپنی خود مختاری اور سلامتی کا مضبوطی سے دفاع کرے گا، اگر کوئی غیر قانونی امریکا میں داخل ہوگا تو اسے جیل جانا پڑےگا.غزہ میں جنگ بندی اب ہوجانی چاہیے، فلسطینی ریاست قائم ہوجانی چاہیے لیکن حماس کی کوئی گنجائش نہیں.امن میں رکاوٹ حماس کا عدم تعاون ہے، حماس کو میرا پیغام ہے اسرائیلی یرغمالیوں کورہا کرو. فلسطین کو تسلیم کرنا حماس کے لیے بڑاانعام ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل اور ایران کی جنگ بھی میں نے رکوائی۔ایران کے ایٹمی اثاثوں کوامریکی جہازوں نے کامیابی سے نشانہ بنایا۔ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے.عالمی منظر نامے پر امریکا کو پھر احترام سے دیکھا جانے لگا ہے.
انہوں نے کہا کہ یوکرین میں بھی اموات روکنے کی کوشش کررہا ہوں، پیوٹن کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں،جنگ روک سکتے ہیں،جنگ میں کچھ بھی ہو سکتا ہے،غیر متوقع چیزیں ہوتی ہیں،
روسی تیل خرید کر بھارت پیوٹن کو مضبوط کر رہا ہے، بھارت اب بھی روس سے تیل خرید رہا ہے۔روس سے تمام مصنوعات کی خریداری کو بند کردینا چاہیے۔
امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ حیاتیاتی ہتھیار کی تیاری روکنا ہوگی،حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری روکنے کے لیے عالمی رہنماؤں سے بات کروں گا۔