بھارت میں انسانی حقوق کےلیے آواز اٹھانے والوں پرزمین تنگ کردی گئی

بھارت میں انسانی حقوق کےلیے آواز اٹھانے والوں پرزمین تنگ کردی گئی
کیپشن: بھارت میں انسانی حقوق کےلیے آواز اٹھانے والوں پرزمین تنگ کردی گئی

ویب ڈیسک: بھارت میں انسانی حقوق کے محافظوں اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں پر زمین تنگ کر دی گئی۔

 ہندوتوا نظریات کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے بھارتی پالیسیوں اور قانون سازی کو انتہا پسندی کی جانب دھکیل دیا۔ بھارت میں مذہبی شناخت کو مٹانے اور اقلیتوں کے ثقافتی ورثے کو نشانہ بنانے کی کوششیں عروج پر پہنچ گئیں۔ خود مختاری کے نام پر عالمی انسانی حقوق کے معیارات کی خلاف ورزی، بھارت میں جمہوری اقدار کا جنازہ نکل گیا۔

متنازع شہریت قوانین اور تبدیلیِ مذہب کی روک تھام کے اقدامات کا رخ براہِ راست مسلم اور مسیحی اقلیتوں کی جانب ہے۔ بھارتی سیاسی قیادت کی زہریلی بیان بازی نے معاشرے میں اقلیتوں کے خلاف نفرت اور دشمنی کو عام کر دیا۔ مذہبی اقلیتوں کو اپنی بنیادی ثقافتی اور مذہبی رسومات کی ادائیگی میں سنگین نظامی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ مسلم قبرستانوں اور تاریخی مقامات کی منظم بے حرمتی اور مسماری کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔

 اقلیتی برادریوں کو میتوں کی تدفین اور آخری رسومات کے لیے جبری طور پر طویل سفر اور مشکلات پر مجبور کیا جا رہا ہے۔بھارت میں آدیواسی مسیحی برادریوں اور دلتوں کو میتوں کی تدفین اور آخری رسومات کی ادائیگی میں منظم ریاستی اور سماجی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ بھارت میں نچلی سطح پر کام کرنے والے سماجی کارکنوں کو شدید دباؤ، ہراسانی اور قانونی کارروائیوں کے ذریعے خاموش کرایا جا رہا ہے۔
 مودی سرکار کی پالیسیوں نے بھارتی معاشرے میں سماجی تقسیم اور امتیازی سلوک کی خلیج کو مزید گہرا کر دیا۔عالمی برادری کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں پر اٹھائے گئے سوالات کو بھارتی حکام نے یکسر مسترد کر دیا۔

Watch Live Public News