پاکستان کے کھیوڑہ نمک کی بھارت کی جانب سے غلط برانڈنگ

پاکستان کے کھیوڑہ نمک کی بھارت کی جانب سے غلط برانڈنگ

(ویب ڈیسک) بھارت کا باسمتی چاول کے بعد کھیوڑہ نمک پر بھی جھوٹا دعویٰ، بھارت نے باسمتی چاول کے بعد کھیوڑہ نمک کو بھی بھارتی بنا کر بیچنا شروع کر دیا۔

  بھارت کھیوڑہ نمک کو بھارتی پراڈکٹ کہہ کر تھائی لینڈ میں فروخت کر رہا  ہے ۔  پی ایم ڈی سی کے ذریعے کھیوڑہ نمک پاکستان کی شناخت ہے۔ خام نمک زیادہ تر متحدہ عرب امارات کے راستے بھارت منتقل کیا جاتا ہے۔ بھارت  اور   پاکستان کی کھیوڑہ نمک کی 2025  سے تجارت پر پابندی ہے۔

  کھیوڑہ پنک سالٹ   کو  حاصل کرنے کیلیےبھارتی تاجر یو اے ای اور سری لنکا کا راستہ استعمال کرتے ہیں۔ بھارت نمک پروسیس کرکے دوبارہ پیک کر عالمی مارکیٹ میں مہنگا فروخت کرتا ہے۔   کھیوڑہ نمک بھارت  یورپ، امریکہ اور مشرق بعید دوبارہ برآمد کرتا ہے۔

  کھیوڑہ نمک پاکستان میں جغرافیائی شناخت کے تحت قانونی طور رجسٹرڈہے۔ بھارتی درآمد کنندگان پاکستان سے خام نمک کم قیمت خریدتےہیں۔ کھیوڑہ پنک سالٹ صرف پاکستان قانونی طور استعمال کرسکتاہے۔  بھارتی غیر ملکی کمپنیوں کا انڈین ہمالین سالٹ نام استعمال غیرقانونی ہے۔

 عالمی ہمالین پنک سالٹ سپلائی کا پچانوے فیصد پاکستان  کرتا ہے۔ کھیوڑہ نمک ہمالیہ نہیں پاکستان  میں صوبہ پنجاب کےسالٹ رینج ذخائر سے نکالا جاتا ہے۔ بھارتی کمپنیاں کھیوڑہ   نمک پیس کر پیک کرکے میڈ ان انڈیا لکھتی ہیں۔بھارتی کمپنیاں عالمی مارکیٹ میں کھیوڑہ نمک کی کئی گنا قیمت وصول کرتی ہیں۔   کھیوڑہ پنک   نمک کی  عا لمی مارکیٹیں امریکہ، یورپ اور صحت شعور ممالک ہیں۔

  کھیوڑہ کان دنیا کے بڑے نمک ذخائر میں شمار ہے۔ کھیوڑہ کان تقریباً دو سو بیس ملین ٹن ذخائر رکھتی ہے۔ کھیوڑہ کان سالانہ تین لاکھ پچاسی ہزار ٹن نمک پیدا ہوتا ہے۔

  پاکستان نے ابھی تھائی لینڈ میں جی آئی درخواست نہیں دی۔  عالمی ہمالین پنک سالٹ مارکیٹ دو سو اڑتیس ملین ہے۔  دو ہزار تینتیس تک مارکیٹ تین سو ستائیس ملین ہے۔

  پاکستان خام نمک برآمد کرکے تقریباً ایک سو بیس ملین کماتا ہے۔ ویلیو ایڈیشن سے بھارت زیادہ منافع حاصل کرتا رہاہے۔ پاکستان خام برآمدات سے نسبتاً کم منافع حاصل کرتاہے۔ اس طرح پاکستان کو اربوں ڈالر تجارتی خسارہ ہوتا ہے۔

  بھارت کا جی آئی کا غلط استعمال  ڈبلیو ٹی او ٹرپس کی خلاف ورزی ہے۔   بھارت اس سے قبل بھی عالمی سرقہ بازی میں بدنام ہے۔   بھارت پاکستانی مصنوعات کو اپنا دکھا کر دنیا کو دھوکہ دے رہا ہے۔

  بھارتی تاجر پاکستانی کھیوڑہ نمک کو  بھارتی ہمالین نمک کہہ کر بیچتے ہیں۔   بھارت ہر شعبے میں کاپی رایٹس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ بالی ووڈ پر پاکستانی فلموں،  گانوں  اورموسیقی نقل کرتا ہے۔

  بھارتی تیجس ایل سی اے میں امریکی انجن جی ای ایف فور زیرو استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ بھارت اسے میک ان انڈیا بنا کے پیش کرتا ہے۔  چینی طبی آلات بھارت میں ری پیکجنگ بعد فروخت ہوتے ہیں۔  چینی وینٹی لیٹرز کو بھی میڈ ان انڈیا کہہ کر بیچا گیا۔

   انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں چائینیز یونٹری روبوٹک ڈاگ کو بھارتی اورین نام دے کر پیش کیاگیا۔  کورین فٹبال ڈرون کو بھی بھارت کا بنا کر پیش کیاگیا ۔  نکھل تھامپی جیسے بھارتی فیشن ڈیزائنرز پر غیر ملکی ڈیزائن نقل الزامات   ثابت ہو چکے۔

  بھارت دوسروں کے کاپی رائٹس  چرا کر دنیا کو بےوقوف بنا   رہا ہے ۔ڈبلیو ٹی او ٹرپس معاہدہ جغرافیائی شناخت غلط استعمال روکتاہے۔  ڈبلیو ٹی او ٹرپس معاہدہ کےآرٹیکلز بائیس تا چوبیس جی آئی غلط دعووں  سے تحفظ مہیا کرتے ہیں۔ 

  کھیوڑہ نمک عالمی رجسٹریشن اور مضبوط برانڈنگ ضروری ہے۔ویلیو ایڈیشن جدید مارکیٹنگ سے پاکستان کو بے پناہ معاشی فائدہ ہو گا۔بھارتی تاجر پاکستانی نمک بھارتی لیبل لگا کر عالمی منڈی میں ٖ  فروخت کرتا ہے۔ کھیوڑہ شناخت تحفظ کیلئے عالمی رجسٹریشن اور برانڈنگ ضروری ہے۔

Watch Live Public News