ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دولت میں 1.1 بلین ڈالر (تقریباً 280 ارب پاکستانی روپے) کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ ان کی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کمپنی ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ (TMTG) کے شیئرز میں شدید گراوٹ کے باعث ہوئی۔
فوربز کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کی دولت میں کمی کا سبب ان کی کمپنی کے شیئرز کی قدر میں تیزی سے کمی اور کرپٹو مارکیٹ میں آنے والی مندی ہے۔ رواں برس ستمبر میں ٹرمپ کی دولت 3.7 بلین ڈالر تھی، جو اب کم ہو کر 6.2 بلین ڈالر رہ گئی ہے۔
ٹی ایم ٹی جی کے شیئرز میں شدید گراوٹ کے بعد اس ہفتے ان کی قیمت 10.18 ڈالر تک پہنچ گئی، جس نے ٹرمپ کی دولت میں کمی کو مزید بڑھا دیا۔ کرپٹو مارکیٹ میں آنے والی مندی بھی ان کی دولت میں اس کمی کا سبب بنی۔
ٹرمپ کی دولت میں اضافہ اور کمی کی تفصیل
فوربز کے مطابق، گزشتہ سال سے رواں برس ستمبر تک ٹرمپ کی دولت میں 3 بلین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ فوربز کی امریکا کے 400 امیر ترین افراد کی فہرست میں 201 نمبر پر آگئے تھے۔ یہ اضافہ زیادہ تر ٹرمپ فیملی کی کرپٹو سرمایہ کاری کے باعث ہوا تھا۔