سینئر روسی جنرل کاربم دھماکے میں ہلاک

سینئر روسی جنرل کاربم دھماکے میں ہلاک

(ویب ڈیسک )  جمعے کے روز ایک سینئر روسی جنرل کار بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے لیے پہنچے۔

روسی  حکام کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل یاروسلاف موسکالک، جو روسی جنرل اسٹاف کے مین آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کےنائب سربراہ تھے، ماسکو سے تقریباً 20 میل مشرق میں واقع شہر بالا شخا میں ایک کار کے قریب دھماکے میں   ہلاک ہوگئے۔

تحقیقات کرنے والی روسی کمیٹی نے تصدیق کی کہ دھماکا ایک دیسی ساختہ بم کے ذریعے کیا گیا جس میں نوکیلے ٹکڑے شامل تھے تاکہ زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔

فوج سے منسلک روسی بلاگ ریبار کے مطابق موسکالک اس وقت گاڑی کے قریب تھے، لیکن اس میں سوار نہیں تھے، جب وہ قریبی عمارت سے باہر نکلے تو دھماکا ہوا۔

موسکالک کے بارے میں زیادہ معلومات عوامی سطح پر موجود نہیں ہیں، مگر ریبار کا کہنا ہے کہ وہ سخت مزاج اور اصول پسند افسر تھے اور اسی وجہ سے زیادہ پسند نہیں کیے جاتے تھے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکی نمائندہ وِٹکوف روس کے صدر سے ملاقات کر رہے تھے۔ یہ وِٹکوف کا رواں سال جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد روس کا چوتھا دورہ ہے، اور اس ماہ کا دوسرا۔

روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے رپورٹ کیا کہ وِٹکوف نے صدر پوتن کے علاوہ روسی مذاکرات کار کیریل دمترییف سے بھی ملاقات کی۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل  روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ روس یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدے پر تیار ہے، لیکن کچھ نکات پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔

دھماکے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے، اور ماہرین کی ٹیم جائے وقوعہ پر شواہد جمع کر رہی ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ بم دیسی ساختہ تھا۔

یاد رہے  کہ 2 دن پہلے ماسکو کے کاروباری علاقے میں ایک زیر زمین پارکنگ میں ہونے والے دھماکے اور آگ کے واقعے سے اس واقعے کو فی الحال جوڑا نہیں گیا ہے۔

جنرل موسکالک کی ہلاکت ایسے وقت میں ہوئی جب روس اور امریکہ کے درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے اہم بات چیت جاری ہے، اور اس واقعے نے ان مذاکرات کو مزید سنجیدہ اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔

Watch Live Public News