ویب ڈیسک: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے کی سرکاری جامعات میں کم تنخواہیں لینے والے ڈائریکٹرز فنانس کی تنخواہوں میں نمایاں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع کی سفارش پر کیا گیا، جس کے بعد محکمہ بورڈز و جامعات نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، اب ایم پی اسکیل-II کے تحت تعینات ڈائریکٹرز فنانس کی مجموعی تنخواہ 4 لاکھ 48 ہزار 280 روپے مقرر کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، بنیادی تنخواہ 2 لاکھ 63 ہزار 180 روپے ہوگی، گھر کے کرائے کی مد میں 95 ہزار 700 روپے، یوٹیلیٹیز کے لیے 11 ہزار 970 روپے جبکہ منافع کی مد میں 77 ہزار 430 روپے فراہم کیے جائیں گے۔ اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
خیال رہے کہ چیئرمین سندھ ایچ ای سی نے اپنی سمری میں توجہ دلائی تھی کہ دیگر صوبوں اور وفاقی سطح پر چارٹرڈ جامعات میں ڈائریکٹر فنانس کو مستقل بنیادوں پر BPS-20 یا اس سے بالاتر گریڈ میں رکھا جاتا ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ڈائریکٹرز فنانس مستقل حیثیت سے BPS-20 پر تعینات ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں انہیں BPS-20 یا 21 میں چار سال کی مدت کے لیے رکھا جاتا ہے۔
سمری میں مزید کہا گیا تھا کہ سندھ میں کم تنخواہوں کے باعث متعدد جامعات میں ڈائریکٹر فنانس تعیناتی کے باوجود جوائن نہیں کرتے یا عہدہ سنبھالنے سے انکار کر دیتے ہیں، جس کے باعث خلا پیدا ہوتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بعض جامعات نے سرچ کمیٹی کی سفارشات پر ویٹنگ لسٹ سے تقرریاں بھی کیں۔
اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین سندھ ایچ ای سی نے وزیر اعلیٰ سے سفارش کی تھی کہ ڈائریکٹر فنانس کی تنخواہ کم از کم 5 لاکھ روپے مقرر کی جائے تاکہ اہل اور تجربہ کار افراد اس عہدے پر برقرار رہ سکیں۔