ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈنمارک کی وزیراعظم کو دھمکی آمیز فون کال

ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈنمارک کی وزیراعظم کو دھمکی آمیز فون کال
کیپشن: ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈنمارک کی وزیراعظم کو دھمکی آمیز فون کال

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈنمارک کی وزیراعظم میٹ فریڈرکسن کو 45 منٹ تک دھمکیوں بھری ٹیلی فون کال،،،   ڈنمارک میں قومی سلامتی کا  بحران پیدا ہوگیا ۔
 رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ڈنمارک کے وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن سے 45 منٹ تک بات کی اور واضح کیا کہ وہ گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں۔

خود مختار آرکٹک علاقہ 1814 سے ڈنمارک کی ملکیت ہے، لیکن مسٹر ٹرمپ کے خیال میں یہ روس اور چین کے خلاف امریکا کے اسٹریٹجک مقابلے میں ایک قیمتی اثاثہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:سابق ٹی وی میزبان نےوزیر دفاع کاعہدہ سنبھال لیا

فائنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ وزیراعظم فریڈرکسن نے انہیں  دوران  کال  باور کرایا کہ  کہ   ٹرمپ  کی "بڑی دلچسپی" کے باوجود، گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے۔

اخبار کے مطابق ان کی جانب سے انکار کے بعد  ڈونلڈ ٹرمپ نے جارحانہ رویہ اختیار کرلیا  اور انہوں نے دھمکی دی کہ اگر گرین لینڈ امریکہ کو فروخت نہیں کیا جاتا تو ڈنمارک پر محصولات عائد کر دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: حماس سے4فوجی خواتین کی رہائی کےساتھ تحفےملنےکی ویڈیو وائرل

 یادرہے ڈنمارک نے بار بار گرین لینڈ کو فروخت کرنے سے انکار کیا ہے، اور اس کا استدلال ہے کہ اس علاقے کے 57,000 باشندوں کو اپنے ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

  ٹیلیفون کال  کی تفصیل سے آگاہ ایک سورس نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ  کہ فون کال بہت "خوفناک" تھی ۔

ایک اور  ذریعے  نے گفتگو پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک  میں گرین لینڈ تنازع کے بعد  ملک میں سیاسی و معاشی بحران  ہے اور ڈنمارک کو  اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک  میں برآمدات پر بڑے پیمانے پر محصولات  کا خوف ہے۔

محترمہ فریڈرکسن، جنہوں نے حالیہ دنوں میں ڈنمارک کی بڑی کمپنیوں کے ساتھ بحران پر بات چیت کی ہے، نے بھی امریکہ کو ڈنمارک کا "سب سے اہم اور قریبی اتحادی" قرار دیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ  یہ کال 7 جنوری کو جب  ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں گرین لینڈ پر قبضے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کو مسترد کرنے سے انکار کیا تھا اس  کے بعد وصول ہوئی تھی۔ امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ کو خریدنے کی پچھلی کوششوں کو کوپن ہیگن نے مسترد کر دیا ہے۔

مسٹر ٹرمپ نے اس ماہ کے شروع میں اس علاقے کو اپنے قبضے میں لینے کا منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو "قومی سلامتی کے مقاصد" کے لیے گرین لینڈ کی "ضرورت" ہے۔

انہوں نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر یہ بھی کہا کہ ملک کے باشندوں کو "تحفظ، تحفظ، طاقت اور امن کی ضرورت ہے!"

"یہ ایک معاہدہ ہے جو ہونا ضروری ہے،" انہوں نے کہا۔ " گرین لینڈ کو پھر سے عظیم بنائیں!

Watch Live Public News