ویب ڈیسک: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی قسم کی فیس یا ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی کسی ملک کو اس اہم عالمی آبی گزرگاہ سے ٹول ٹیکس وصول کرنے کا حق حاصل ہے۔
خلیج تعاون کونسل (GCC) کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی کسی بھی تجویز کی مخالفت کی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹ یا آمدورفت کی بندش کسی بھی ممکنہ معاہدے کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے کسی بھی معاہدے میں امریکا کے خلیجی اتحادیوں کے سیکیورٹی مفادات اور تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
مارکو روبیو نے بتایا کہ خلیجی ممالک نے خطے کی صورتحال سے متعلق اپنے سنجیدہ تحفظات سے امریکا کو آگاہ کیا ہے، تاہم ایران کی تعمیرِ نو کے لیے ممکنہ فنڈنگ کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
امریکی وزیر خارجہ نے خطے میں سرگرم مسلح پراکسی گروپوں کی ایران کی جانب سے مبینہ حمایت کو امن اور استحکام کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے لیے ایسے اقدامات کا خاتمہ ضروری ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض معاملات میں فوجی اڈوں کی فراہمی سے انکار نے امریکا اور یورپ کے درمیان دفاعی تعاون کو متاثر کیا، جبکہ ایران سے لاحق خطرات کا سامنا یورپ کو امریکا کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو کامیاب بنانے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔