ویب ڈیسک: ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنرل سیلز ٹیکس ( جی ایس ٹی) پاکستان میں غربت میں اضافے کا سب سے بڑا سبب بن رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گھرانے اپنی آمدن سے پہلے کے اخراجات کا اوسطاً 7 فیصد جی ایس ٹی کی صورت میں ادا کرتے ہیں، جس کا اثر خاص طور پر غریب اور کمزور طبقے پر شدید پڑتا ہے۔
جی ایس ٹی کا منفی اثر، بی آئی ایس پی کا مثبت کردار
ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق جی ایس ٹی کا غربت میں اضافے پر سب سے زیادہ منفی اثر پڑا جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) نے عدم مساوات میں واضح کمی لانے میں سب سے مؤثر کردار ادا کیا۔ بی آئی ایس پی کی کیش ٹرانسفر اسکیم نے کم آمدنی والے طبقے کی مالی حالت بہتر بنانے میں نمایاں مدد کی۔
مالیاتی نظام میں توازن کی کمی
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بیشتر کمزور گھرانے وہ ٹیکس تو دیتے ہیں لیکن بدلے میں حاصل ہونے والے فوائد اس کے مقابلے میں بہت کم ہوتے ہیں۔ صرف سب سے غریب 10 فیصد گھرانے ایسے ہیں جنہیں حکومت سے ٹیکس کی نسبت زیادہ مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں اور ان کا خالص فائدہ 1.2 فیصد تک پہنچتا ہے۔ اس کے برعکس، درمیانے اور امیر طبقات کے گھرانے خالص نقصان میں رہتے ہیں، جہاں سب سے امیر طبقے (دسویں ڈیسائل) کا نقصان 5.5 فیصد تک ہو سکتا ہے۔
تعلیم و صحت کے اخراجات کا اثر
رپورٹ کے مطابق پری پرائمری اور پرائمری تعلیم پر سرکاری اخراجات نے بھی عدم مساوات کم کرنے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح، اگر صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری لائی جائے تو طویل المدتی بنیادوں پر غربت میں کمی ممکن ہے۔
مالی انصاف کی ضرورت
ورلڈ بینک نے سفارش کی ہے کہ پاکستان کو اپنے ریونیو سسٹم کو مؤثر بناتے ہوئے سماجی بہبود کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ خاص طور پر جی ایس ٹی سے حاصل ہونے والی آمدن کو ٹارگٹڈ کیش ٹرانسفر کے ذریعے کمزور طبقے کی معاونت میں استعمال کیا جائے تو ملک میں مالیاتی استحکام اور انصاف ایک ساتھ ممکن ہو سکتے ہیں۔
امیر طبقہ سبسڈی سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے
مالی سال 2019 کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے امیر ترین دو طبقے (ڈیسائل) حکومت کی سبسڈی کا 34 فیصد، تعلیمی فوائد کا 29 فیصد اور صحت کی سہولیات کا 27 فیصد حاصل کرتے ہیں، جبکہ وہ بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں 40 فیصد ریونیو ادا کرتے ہیں۔
معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے کمزور اور غیر مستحکم معاشی ترقی کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مالیاتی پالیسیوں میں براہ راست ٹیکسوں کی بجائے غیر مؤثر سبسڈی اور بالواسطہ ٹیکس پر انحصار کیا گیا، جس سے غریب طبقہ مزید مشکلات میں گھرتا چلا گیا۔