(ویب ڈیسک ) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغانستان پر حملہ نہیں کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آراحمد شریف چودہری نے سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنرل فیض حمید کا ٹرائل قانونی معاملہ ہے اس پر قیاس آرائی نہ کی جائے ،جب یہ معاملہ حتمی نتیجے پر پہنچے گا فوری طور پر اعلان کردیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جب بھی حملہ کرتا ہے تو اعلانیہ کرتا ہے ، پاکستان کبھی سویلین پر حملہ نہیں کرتا ،ہماری نظر میں کوئی گڈ اور بیڈ طالبان نہیں ہے ،دہشتگردوں میں کوئی تفریق نہیں ہے .
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ طالبان حکومت ریاست کی طرح فیصلہ کرے ، نان اسٹیٹ ایکٹر کی طرح فیصلہ نہ کرے، طالبان حکومت کب تک عبوری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم ریاست ہیں ، ریاست کے طورہی ردعمل دیتے ہیں ،بلڈ اوربزنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے ، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پرحملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں، ہم افغان عوام کے نہیں بلکہ دہشتگردی کے خلاف ہیں۔ایکشن بتاتا ہے کہ تحریک طالبان افغانستان اورٹی ٹی پی میں کوئی فرق نہیں،ہم حق پر ہیں اور حق غالب آئے گا ۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر فوری پابندی عائد کی جائے،دہشتگردی کے بہت سے واقعات میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں استعمال ہوئیں ۔
انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت اوردیگرعناصر کے سوشل میڈیا اکاونٹس بیرون ممالک سے آپریٹ ہورہے،یہ سوشل میڈیا اکاونٹس ریاست مخالف مہم چلا رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 4 نومبر سے اب تک 4910 انسداد دہشتگردی آپریشن ہوئے ہیں ،ہر روز 232 آپریشن ہوئے ہیں ،336 دہشتگردی کے واقعات ہوئے ہیں ۔