(ویب ڈیسک ) محققین کا کہنا ہے کہ اگر ہم کبھی کسی بیرونی تہذیب (extraterrestrial civilisation) کا سراغ لگاتے ہیں، تو غالب امکان ہے کہ وہ انسانیت سے کہیں زیادہ پرانی ہوگی۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق، وہ حالات جو کسی جدید خلائی مخلوق کے وجود کے لیے سازگار ہوتے ہیں، وہ بہت ہی نایاب ہیں ۔ اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایسا قریبی سیارہ جہاں جدید ترین خلائی مخلوق کا وجود ہو، وہ ممکنہ طور پر زمین سے 33,000 نوری سال دور ہو سکتا ہے۔
ایسی جدید خلائی مخلوق کا ہمارے دور میں موجود ہونا اسی وقت ممکن ہے اگر ان کی تہذیب کی عمر کم از کم 2,80,000 سال ہو، جیسا کہ حال ہی میں یورپلانٹ سائنس کانگریس اور امریکن ایسٹرونومیکل سوسائٹی کی ڈیویژن فار پلینیٹری سائنس (EPSC-DPS2025) کے مشترکہ اجلاس میں پیش کی گئی تحقیق میں بتایا گیا۔
آسٹریا کی اکیڈمی آف سائنسز کے محققین نے یہ اعداد و شمار زمین جیسے سیاروں کی موجودگی کے امکانات کو مدِنظر رکھتے ہوئے نکالے، جن میں پلیٹ ٹیکٹونکس، نائٹروجن اور آکسیجن سے بھرپور فضا، اور مناسب مقدار میں آکسیجن و کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام عوامل ذہین خلائی مخلوق کے وجود کے امکانات کو "مایوس کن" بنا دیتے ہیں۔ اسپیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے مانوئیل شیرف کا کہنا ہے کہ "ہماری کہکشاں میں ذہین غیر ارضی مخلوقات (ETIs) کا پایا جانا ممکنہ طور پر کافی نایاب ہے،"
سائنسدانوں نے زمین پر زندگی کے ارتقاء سے مماثلتیں بیان کیں اور کہا کہ زمین کی فضا میں نائٹروجن (78 فیصد) اور آکسیجن (21 فیصد) کا غلبہ ہے، جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسے گیسیں معمولی مقدار (0.042 فیصد) میں پائی جاتی ہیں۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جس سیارے کی فضا میں زیادہ مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ ہو، وہ زیادہ دیر تک زندگی کے لیے موزوں ماحول قائم رکھ سکتا ہے۔تاہم، محققین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایسے سیارے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں توازن انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اس کی زیادتی شدید گرین ہاؤس ایفیکٹ یا زہریلی فضا کا باعث بن سکتی ہے، جو زندگی کے لیے خطرناک ہوگا۔

ایسا سیارہ جس کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار زیادہ ہو – مثلاً 10 فیصد – اگر وہ اپنے سورج سے نسبتاً دور ہو، یا اس کا سورج جوان ہو، تو وہ گرین ہاؤس ایفیکٹ سے بچ سکتا ہے۔
محققین کا اندازہ ہے کہ ایسے حالات میں وہ سیارہ زندگی کے لیے موزوں ماحول زیادہ سے زیادہ 4.2 ارب سال تک برقرار رکھ سکتا ہے۔
دوسری جانب، اگر کسی سیارے کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ صرف 1 فیصد ہو، تو وہ زیادہ سے زیادہ 3.1 ارب سال تک زندگی کے لیے موزوں حیاتیاتی ماحول قائم رکھ سکتا ہے۔
دونوں صورتوں میں، سائنسدانوں کے مطابق، ایسے سیاروں میں آکسیجن کی مقدار کم از کم 18 فیصد ہونا لازمی ہے۔
اگر آکسیجن اس حد سے کم ہو گئی، تو وہاں آگ لگانا ممکن نہیں ہوگا – اور چونکہ دھات کو پگھلانے کے لیے آگ ضروری ہے، اس لیے اس صورت میں کسی ٹیکنالوجی رکھنے والی تہذیب کا ابھرنا ممکن نہیں ہوگا۔
سائنسدانوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پلیٹ ٹیکٹونکس کاربن-سلیکیٹ چکر کے ذریعے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے کسی بھی قابل رہائش سیارے کے لیے یہ جیولوجیکل عمل ضروری ہوگا۔
ڈاکٹر شیرف کے مطابق "ایک وقت ایسا آئے گا جب فضا سے اتنی زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہو چکی ہو گی کہ فوٹوسنتھیسز (photosynthesis) کا عمل رک جائے گا... زمین پر یہ تقریباً 20 کروڑ سے لے کر ایک ارب سال کے درمیان ہونے کا امکان ہے۔"
سائنسدانوں نے ان ممکنہ ادوار کا موازنہ تکنیکی زندگی کے ارتقاء سے کیا، جیسا کہ زمین پر یہ تقریباً 4.5 ارب سال بعد ممکن ہوا۔
ان تمام عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے، محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر کسی سیارے پر جدیدٹیکنالوجی رکھنے والی خلائی مخلوق موجود ہو اور وہاں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار 10 فیصد ہو، تو اس تہذیب کو کم از کم 2,80,000 سال تک زندہ رہنا ہوگا تاکہ ہماری کہکشاں میں ہماری موجودگی کے دوران کسی ایک اور تہذیب کا وجود ممکن ہو سکے۔
ڈاکٹر شیرف نے کہا کہ "غیر ارضی ذہین مخلوقات (ETIs) کی تعداد بہت کم ہے، اور یہ کافی حد تک اس بات پر منحصر ہے کہ کوئی تہذیب کتنی دیر تک قائم رہتی ہے۔"
تحقیق سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ اگر ہم کبھی کسی ETI کا سراغ لگاتے ہیں، تو وہ ممکنہ طور پر انسانیت سے کہیں زیادہ پرانی ہوگی۔
ان تخمینوں کی بنیاد پر سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ سب سے قریبی ٹیکنالوجی رکھنے والی غیر ارضی تہذیب زمین سے 33,000 نوری سال کے فاصلے پر ہو سکتی ہے – جو کہ ملکی وے کہکشاں کے دوسرے کنارے کے برابر فاصلہ ہے۔
ڈاکٹر شیرف کا کہنا ہے کہ "اگرچہ ETIs نایاب ہو سکتی ہیں، لیکن اس کا پتہ لگانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے، اور وہ ہے ان کی تلاش۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "اگر یہ تلاشیں ناکام رہتی ہیں، تو یہ ہماری تھیوری کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ اور اگر SETI کو کسی ETI کا سراغ ملتا ہے، تو یہ سائنسی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہوگی، کیونکہ اس کا مطلب ہوگا کہ ہم کائنات میں اکیلے نہیں ہیں۔"