ناسا نے زمین کے دوسرے چاند کی تصدیق کردی

ناسا نے زمین کے دوسرے چاند کی تصدیق کردی
کیپشن: ناسا نے زمین کے دوسرے چاند کی تصدیق کردی

ویب ڈیسک: کیا آپ بھی یہ سمجھتے تھے کہ زمین کا صرف ایک ہی چاند ہے؟ اگر ہاں تو اب تیار ہوجائیں ایک حیران کن حقیقت جاننے کے لیے، کیونکہ امریکی خلائی ادارے ناسا نے دعویٰ کیا ہے کہ زمین کے ساتھ ایک نہیں بلکہ دو ’’ چاند‘‘ موجود ہیں۔

ناسا کے مطابق ایک چھوٹا سیارچہ، جس کا نام 2025 PN7 رکھا گیا ہے، زمین کا ’’دوسرا چاند‘‘ یا ’’ منی مون‘‘ (Mini Moon) بن چکا ہے۔ یہ سیارچہ حال ہی میں امریکا کی ہوائی یونیورسٹی کے ماہرینِ فلکیات نے دریافت کیا ہے اور اس کی چوڑائی تقریباً 18 سے 36 میٹر تک بتائی جا رہی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ خلائی چٹان گزشتہ 60 برسوں سے زمین کے ساتھ سفر کر رہی ہے، اور اگر اس کا موجودہ مدار برقرار رہا تو یہ 2083 تک زمین کے ساتھ گھومتا رہے گا۔

یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ یہ سیارچہ ہمارے اصل چاند کی طرح زمین کے گرد باقاعدہ مدار میں چکر نہیں لگا رہا بلکہ یہ سورج کے گرد گردش کرتے ہوئے زمین کے راستے کے قریب موجود ہے، جس کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ہماری زمین کا خاموش ساتھی ہو۔

اسی لیے سائنسدان اسے حقیقت میں چاند نہیں بلکہ ’’ منی مون‘‘ یعنی چھوٹا چاند قرار دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق 2025 PN7 اس وقت زمین سے ہمارے اصل چاند کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ فاصلے پر موجود ہے، اس لیے یہ نہ تو زمین سے ٹکرانے کا خطرہ رکھتا ہے اور نہ ہی ہمارے سیارے کی کششِ ثقل پر کسی قسم کا اثر ڈالے گا۔

یہ سیارچہ خلا میں ہماری زمین کے ساتھ حرکت کرتا ہے، جسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ زمین کا تعاقب کر رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں بھی ایسے ’’ منی مون‘‘ دریافت ہوچکے ہیں۔ مثال کے طور پر ستمبر 2024 میں بھی ایک چھوٹا سیارچہ زمین کے مدار کے قریب آیا اور نومبر تک وہاں موجود رہا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس نئی دریافت سے زمین کے قریبی خلائی ماحول (Near-Earth Space) کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی، جبکہ مستقبل میں اس طرح کے سیارچوں پر تحقیق خلائی مشنوں کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

Watch Live Public News