پاکستان بھارت کشیدگی عروج پر، دونوں تنازع خود حل کریں گے: امریکی صدر

پاکستان بھارت کشیدگی عروج پر، دونوں تنازع خود حل کریں گے: امریکی صدر
کیپشن: پاکستان بھارت کشیدگی عروج پر، دونوں تنازع خود حل کریں گے: امریکی صدر

ویب ڈیسک:مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل سامنے آ گیا ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ خود اس مسئلے کو حل کریں کیونکہ ان کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان اور بھارت کے رہنماؤں کو جانتا ہوں، دونوں ممالک خود ہی کسی نہ کسی طرح اپنے تعلقات دیکھ لیں گے، مقبوضہ کشمیرمیں حملے سے پاکستان بھارت میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی دو دہائیوں میں بدترین ہے,شاید اس سے بھی زیادہ عرصے سےچل رہا ہے اور یہ بری صورتحال ہے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کشمیر تنازع کی تاریخ سے ناواقف نکلے، تنازع کو1500سال پرانا قرار دے دیا، انہوں نے کہاکہ بھارت اورپاکستان کشمیر کا تنازع خود حل کریں گے، پاکستان اور بھارت دونوں کے بہت قریب ہوں۔

ائیرفورس ون میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کشمیر میں حملے کے بعد سے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ہے تو کیا آپ ان ممالک کو کوئی پیغام دیں گے یا ان ممالک کے رہنماؤں سے بات کریں گے؟

صدرٹرمپ نے پاک بھارت رہنماؤں سے رابطہ کرنے سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریزکیا۔

طیارے میں موجود صحافیوں میں سے کسی نے غلطی درست نہیں کی کہ مسئلہ کشمیر 1947 میں غلط تقسیم ہند کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا،ڈیڑھ ہزار سال پہلے نہیں۔

اس سے قبل گزشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے مقبوضہ کشمیر میں دہشتگردی کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے زور دیا تھا کہ اس واقعہ میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ہم ان لوگوں کے لیے دعاگو ہیں جن کے عزیز اس واقعہ میں مارے گئے اور دعاگو ہیں کہ زخمی جلد صحت یاب ہوں۔

اس سوال پر کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے لیے کردار کی خواہش ظاہر کی تھی، ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے کہا کہ وہ اس معاملے پر تبصرہ نہیں کریں گی۔

اس سوال پر کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرانے کے لیے کوئی کردار ادا کررہی ہے؟

ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور ہم اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور یقینی طور پر اس وقت ہم کشمیر یا جموں کے اسٹیٹس پر کوئی مؤقف نہیں اپنا رہے۔

Watch Live Public News