ویب ڈیسک: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی محکمہ دفاع کا نام تبدیل کرکے "محکمہ جنگ” رکھنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ "محکمہ دفاع کا نام سننے میں اچھا نہیں لگتا، ہمیں صرف دفاع ہی کیوں کرنا ہے؟”۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس محکمے کا نام "محکمہ جنگ” تھا اور اُس وقت امریکہ نے دونوں عالمی جنگیں اور دیگر کئی جنگیں جیتیں۔ "ہم صرف دفاع نہیں، فتح چاہتے ہیں،”۔
صدر ٹرمپ نے مزاحیہ انداز میں اپنے ساتھ کھڑے عہدیداروں سے کہا کہ اگر وہ نام تبدیل کرنا چاہیں تو ووٹنگ کرا سکتے ہیں، جس پر امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ یہ تجویز معقول لگتی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں صرف دفاع کرنے والا نہیں بننا چاہتا، ہاں دفاع بھی ہونا چاہیے، لیکن صرف دفاع پر اکتفا کافی نہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت امریکی پرچم جلانے والے کو ایک سال قید کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت امریکی پرچم کو کسی بھی شکل میں جلانے یا اس کی بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
واشنگٹن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی پرچم جلانے کا سلسلہ فوری طور پر ختم ہونا چاہیے، اب جو بھی جھنڈا جلائے گا وہ ایک سال کے لیے جیل جائے گا۔ نہ کوئی ضمانت ہوگی اور نہ کوئی رعایت۔
انہوں نے کہا کہ امریکی پرچم جلانے کو آزادی اظہار نہیں کہا جا سکتا کیونکہ جو بائیڈن کے دور میں واشنگٹن میں جرائم زیادہ ہوئے۔
حکم نامے کے مطابق اٹارنی جنرل کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امریکی پرچم کی بے حرمتی کے خلاف قوانین پر سختی سے عمل درآمد کریں اور اس معاملے پر پہلی ترمیم کے دائرہ کار کو واضح کرنے کے لیے قانونی کارروائی کریں۔
دوسری جانب آزادی کے حامی گروپوں نے صدر ٹرمپ کے اقدام پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار کی اصل خوبصورتی یہ ہے کہ آپ اپنی رائے کا اظہار کرسکتے ہیں، چاہے دوسروں کو یہ ناگوار لگے۔