ویب ڈیسک : پاناما نہر پر امریکی قبضے کا شور۔۔۔۔۔نومنتخب صدر امریکا ڈونلڈ ٹرمپ نے پاناما کیلئے کیون مارینو کیبریرا کو امریکی سفیر نامزد کیا ہے ۔
میامی ڈیڈ کاؤنٹی کے کمشنر کیون مارینو کیبریرا کو اس عہدے کے لیے نامزد کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ کیون مارینو کیبریرا جمہوریہ پانامہ میں ریاستہائے متحدہ کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں گے، ایک ایسا ملک جو پاناما کینال پر ہمیں اپنے خوابوں سے کہیں آگے لے جا رہا ہے۔ وہ پاناما میں ہماری قوم کے مفادات کی نمائندگی کرنے کے لیے ایک شاندار کام کریں گے!"
یادرہے گذشتہ ویک اینڈ پر امریکی نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا کو پاناما نہر کا کنٹرول سنبھال لینا چاہیے - انہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاناما نہر سے گزرنے والے امریکی بحری جہازوں سے غیر حقیقی اور بلاجواز زیادہ ٹیکس لیا جارہا ہے۔
جبکہ کرسمس پر ٹرتھ سوشل پر پوسٹ کئے گئے ایک طنزیہ پیغام میں، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چینی فوجی پاناما کینال کو چلا رہے ہیں ۔
"سب کو کرسمس مبارک ہو، بشمول چین کے ان شاندار فوجیوں کو، جو محبت سے، لیکن غیر قانونی طور پر، پانامہ کینال کو آپریٹ کررہے ہیں ۔
اسی پیغام میں، ٹرمپ نے کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈ کو ایک دفعہ بھر "گورنر" قرار دیا اور کہا کہ ایک بار پھر کینیڈا کو امریکی ریاست بننا چاہیے۔ انہوں نے گرین لینڈ کے شہریوں کو یہ بھی تجویز کیا کہ " وہ چاہتے ہیں کہ امریکا وہاں رہے، اور ہم یہ کریں گے۔"
ٹرمپ کی عبوری ٹیم نے پہلے ان کے بیانات اور عوامی تبصروں میں حالیہ تبصروں کے پیچھے اصل محرکات کو واضح کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے کرسمس پیغامات میں "بنیاد پرست بائیں بازو کے پاگلوں کو میری کرسمس" کہا گیا ہے اور 37 وفاقی قیدیوں پر جن کی سزائیں صدر جو بائیڈن نے پیر کو سزائے موت سے عمر قید میں تبدیل کر دی ہیں کو مبارک باد دینے سے انکار کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ
"میں ان خوش قسمت 'روحوں' کو کرسمس کی مبارکباد دینے سے انکار کرتا ہوں لیکن، اس کے بجائے، کہوں گا، جہنم میں جاؤ!"، ۔