ویب ڈیسک: پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کےاثرات سامنے آنے لگے ہیں۔جس کے بعدبلوچستان کے ضلع نوشکی کے صحرائی علاقے میں برف باری رپورٹ ہوئی، جو ایک نادر واقعہ ہے اور مقامی لوگوں کے مطابق تقریباً دو دہائیوں میں پہلی بار دیکھا گیا ہے۔
اس غیر معمولی سردی نے ریت کے ٹیلوں کو سفید چادر اوڑھا دی اور صحرا کی سطح پر برف جم گئی جس سے علاقے کے رہائشی حیران رہ گئے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سال بہ سال غیر متوقع موسموں کا سامنا کر رہا ہے، حالانکہ ملک کا عالمی سطح پر اخراج میں حصہ نسبتا کم ہے۔
گزشتہ چند سالوں میں پاکستان شدید موسمیاتی واقعات کی زد میں رہا ہے، جن میں شدید گرمیوں میں بارشیں اور سیلاب سے لے کر سخت سردیوں تک شامل ہیں۔ اس سیزن کی سرد لہر سےکئی علاقوں میں برف باری اور ژالہ باری ہوئی، جن میں ایسے علاقے بھی شامل ہیں جہاں عموماً یہ موسم معمول نہیں ہوتا۔
نوشکی کے صحرائی علاقے میں نادر برف باری کے ساتھ ساتھ سوات کے شہری علاقوں میں 16 سال بعد برف پڑنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ کرک کے نزدیک گارگڑی میں 25 سال بعد برف باری ہوئی اور کرک میں درجہ حرارت -2 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔
دوسری جانب بٹگرام میں شدید برف باری ہوئی، جہاں بعض مقامات پر برف کی موٹائی چار فٹ تک بتائی گئی، جس کے باعث رہائشی گھروں میں محصور ہو گئے۔ دو دن سے بجلی بند ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، جبکہ خطرناک صورتحال کے پیش نظر حکام نے قراقرم ہائی وے کے بعض حصوں کو بند کر دیا اور راستے پر سفر محدود کر دیا۔
پنجاب کے کچھ حصوں میں غیر معمولی ژالہ باری بھی ریکارڈ کی گئی، جہاں اٹک میں 40 سال بعد اور بھکر میں 42 سال بعد ژالہ باری ہوئی۔
متعلقہ حکام نے متاثرہ علاقوں میں لوگوں سے غیر ضروری سفر سے گریز، مقامی ہدایات پر عمل اور کم درجہ حرارت اور خراب سڑکوں کے پیش نظر اضافی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔