ویب ڈیسک: (علی زیدی) گوگل پر کرنسی کنورٹر میں ایک برطانوی پاؤنڈ کی قیمت 9.52 روپے، سوشل میڈیا پر ہنگامہ! حقیقت کیا ہے؟
تفصیلات کے مطابق پاکستانی کرنسی کے بارے میں خبریں اور بحثیں ہمیشہ سے عوامی دلچسپی کا باعث رہتی ہیں، مگر آج گوگل پر کرنسی کنورٹر میں ایک حیران کن اور غیر حقیقی نرخ سامنے آیا جس نے صارفین کو جھٹکا دے دیا۔ کچھ صارفین نے دیکھا کہ 1 برطانوی پاؤنڈ کی قیمت صرف 9 روپے 52 پیسے دکھائی جا رہی ہے، جسے دیکھ کر کئی لوگوں نے خوشی کا اظہار بھی کیا اور سوشل میڈیا پر یہ خبر تیزی سے وائرل ہو گئی۔

کیا واقعی پاؤنڈ اتنا سستا ہو گیا؟
اس سوال کا جواب واضح طور پر نہیں ہے۔ یہ رقم حقیقت میں ممکن نہیں ہے اور ماہرین نے اسے گوگل کے کرنسی کنورٹر میں تکنیکی غلطی قرار دیا ہے۔
پاکستانی روپے کی قدر میں کچھ عرصے سے استحکام ضرور آیا ہے، مگر 1 پاؤنڈ کا ریٹ کبھی بھی 9.52 روپے نہیں ہو سکتا۔ اس وقت برطانوی پاؤنڈ کا حقیقی ریٹ تقریباً 378 روپے 38 پیسے ہے، جو کہ بین الاقوامی مارکیٹ اور مقامی فاریکس ریٹس کے مطابق درست ہے۔
غلطی کیسے سامنے آئی؟
گوگل کے کرنسی کنورٹر میں یہ غیر حقیقی ہندسہ غالباً ڈیٹا فیڈ میں خرابی یا ٹیکنیکل بگ کی وجہ سے آیا ہے۔ ایسی غلطیاں کبھی کبھار مختلف کرنسی ایکسچینج APIs میں خرابی کے باعث سامنے آتی ہیں، جس کی وجہ سے گوگل بھی غلط معلومات دکھا سکتا ہے۔
ماہرین کا کیا کہنا ہے؟
ماہرین کے مطابق یہ ایک وقتی تکنیکی مسئلہ ہے اور امید ہے کہ گوگل یا متعلقہ ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے اسے جلد درست کر دیں گے۔ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کرنسی کے حقیقی نرخ جاننے کے لیے معتبر فاریکس ریٹ ویب سائٹس یا بینکوں کے ریٹس دیکھیں۔
اگرچہ یہ خبر سوشل میڈیا پر خوش آئند اور حیران کن لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ صرف ایک تکنیکی غلطی ہے۔ اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ کرنسی کی درست معلومات کے لیے قابل اعتماد ذرائع سے ریٹ چیک کریں، نہ کہ گوگل کے کرنسی کنورٹر میں عارضی خرابی پر بھروسہ کریں۔