کِس کیم تنازعہ بڑھ گیا، سابق سی ای او کا کولڈ پلے پر مقدمے کا اعلان

کِس کیم تنازعہ بڑھ گیا، سابق سی ای او کا کولڈ پلے پر مقدمے کا اعلان
کیپشن: کِس کیم تنازعہ بڑھ گیا، سابق سی ای او کا کولڈ پلے پر مقدمے کا اعلان

ویب ڈیسک: سابق آسٹرونومر کمپنی کے سی ای او اینڈی بائرن نے معروف برطانوی بینڈ کولڈپلے اور کنسرٹ کے منتظمین کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہیں ایک وائرل " کس کیم" ویڈیو کے ذریعے نہ صرف شرمندہ کیا گیا بلکہ ان کی نجی زندگی کو بھی نقصان پہنچا۔

یہ واقعہ میساچوسٹس میں کولڈپلے کے حالیہ کنسرٹ کے دوران پیش آیا، جہاں ایک بڑی اسکرین پر نشر ہونے والے " کس کیم" لمحے نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا۔ ویڈیو میں اینڈی بائرن اور کمپنی کی ہیومن ریسورس ہیڈ کرسٹن کیبوٹ کو ایک قریبی اور بظاہر ذاتی لمحے میں دکھایا گیا، جس پر گلوکار کرس مارٹن نے طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’یا تو یہ دونوں افیئر میں ہیں یا بہت شرمیلے ہیں۔‘‘

اس منظر کے بعد بائرن اور کرسٹن دونوں نے شرمندگی کے باعث اپنا چہرہ چھپا لیا، لیکن ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا، جہاں صارفین نے انہیں مذاق اور تنقید کا نشانہ بنایا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اینڈی بائرن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ’’جذباتی تکلیف‘‘ اور ’’پرائیویسی کی خلاف ورزی‘‘ کے الزامات پر کولڈپلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ ایک وکیل کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ ہتکِ عزت کی بنیاد پر بھی دائر کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر کرس مارٹن کے "افیئر" والے تبصرے کو بنیاد بنا کر، بشرطیکہ بائرن یہ ثابت کر سکیں کہ ایسا کوئی تعلق حقیقت میں موجود نہیں تھا۔

اس واقعے کے فوری بعد، کمپنی کے دونوں اعلیٰ عہدیداروں کو انتظامی چھٹی پر بھیج دیا گیا، اور بعد ازاں ان کے استعفے بھی منظور کر لیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بائرن کی ذاتی زندگی پر بھی اثرانداز ہوا ہے۔ ان کی اہلیہ میگن کیریگن نے مبینہ طور پر اپنا فیس بک پروفائل بند کر دیا ہے اور بائرن کے ساتھ تعلق ختم کرنے کے اشارے دیے ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی مقامات پر پرائیویسی کی توقع کم ہوتی ہے، اور ایسے مقدمات میں کامیابی کے امکانات محدود ہوتے ہیں، خاص طور پر جب ہزاروں افراد کی موجودگی میں ریکارڈنگ کی گئی ہو۔

ابھی تک کولڈپلے یا کرس مارٹن کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مارٹن نے اس معاملے پر سن کر صرف قہقہہ لگایا۔

Watch Live Public News