پہلگام فالس فلیگ حملہ:بھارت میں کشمیری طلباء کیخلاف انتہا پسند ہندوؤں کا تشدد

پہلگام فالس فلیگ حملہ:بھارت میں کشمیری طلباء کیخلاف انتہا پسند ہندوؤں کا تشدد
کیپشن: پہلگام فالس فلیگ حملہ:بھارت میں کشمیری طلباء کیخلاف انتہا پسند ہندوؤں کا تشدد

ویب ڈیسک: مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں حالیہ فالس فلیگ حملے کے بعد بھارت میں کشمیری طلباء کے خلاف انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے تشدد میں تشویشناک اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی شہر موہالی میں کشمیری طالبہ کو ہراساں کرنے کے بعد اس نے بتایا کہ ہندو انتہا پسندوں نے اسے ہاسٹل کے دروازے پر گالیاں دیں اور دھمکیاں دیں، جس کے بعد وہ اور اس کی دوست حملہ آوروں سے بچنے کے لیے بھاگنے پر مجبور ہو گئیں۔

اسی طرح چاندی گڑھ میں کشمیری طلباء کے ایک گروپ پر یونیورسٹی کے یونیورسل گروپ کے افراد نے حملہ کیا، جبکہ دہرادون میں "ہندو رکھشک دل" نے ویڈیو پیغام میں کشمیریوں کو وارننگ دی۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ بھارتی انتہا پسند ہندو گروہ کشمیریوں کو صرف ایک نشانہ نہیں سمجھتے بلکہ ان کا مقصد کشمیر کی زمین پر قبضہ کرنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت اور انتہا پسند ہندو گروہ کی جانب سے کشمیری طلباء کو ہراساں کرنا ایک واضح پیغام ہے کہ انہیں صرف کشمیری نہیں بلکہ کشمیر کے وسائل اور اراضی کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں،عالمی برادری کو بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی اور کشمیریوں کے حقوق کی پامالی پر شدید تشویش کا اظہار کرنا چاہیے۔

Watch Live Public News