ویب ڈیسک: سیالکوٹ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 405 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جس نے شہر میں بارش کا 49 سالہ ریکارڈ توڑ دیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سیالکوٹ شہر میں 6 اگست 1976 کو 339 ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔ سیالکوٹ شہر میں گزشتہ روز ہونے والی موسلا دھار بارش سے رنگ پورہ، شہاب پورہ، درہ آرائیں، علامہ اقبال چوک، پریم نگر سمیت متعدد علاقے زیرآب آگئے۔
دوسری جانب، مودی سرکار کی آبی جارحیت کے بعد پنجاب کے دریاؤں میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر حکومت نے فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔ پاک فوج ممکنہ سیلاب کے پیش نظر سول انتظامیہ کی مدد کرے گی۔ بھارت نے دریائے راوی پر ڈیم کے تمام دروازے کھول دیے ہیں جس کے باعث دریائے چناب میں بھی پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق بھارت کی آبی جارحیت کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس سے نمٹنے کیلئے پنجاب کے 7 اضلاع میں فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کیلئے طلب کرلیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے فوری امدادی اقدامات کیلئے اہم فیصلہ کرتے ہوئے قصور، سیالکوٹ، نارووال میں فوج طلب کر لی ہے۔
ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، پولیس پہلے ہی متحرک، قصور، سیالکوٹ، نارووال کے ڈی سیز نے فوری فوج کی تعیناتی کی درخواست کی۔
ضلعی امداد اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بروقت فیصلہ کرلیا گیا، محکمہ داخلہ پنجاب نے فوجی تعیناتی کیلئے وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ ارسال کردیا۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کیلئے فوج طلب کی ہے، فوج کے دستوں کی تعداد کا فیصلہ ضلعی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
مواصلات میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں آرمی ایوی ایشن سمیت دیگر وسائل بھی فراہم کیے جائیں گے۔ پنجاب حکومت کے تمام ادارے 24 گھنٹے سیلاب کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔