ویب ڈیسک: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 شوہر کے اپنی بیوی کو گھورنے یا تیکھی نظر ڈالنے کو جرم قرار دیتا ہے۔
جمعے کے روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 اور دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 کو اکثریتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔
ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے گھریلو تشدد سے متعلق بل ایوان میں پیش کیا تھا، جو جے یو آئی (ف) کی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران اور سینیٹر کامران مرتضیٰ کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم مسترد کیے جانے جبکہ خود ڈاکٹر شرمیلا فاروقی کی ترامیم منظور ہونے کے بعد منظور ہوا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے وضاحت کی کہ اس بل میں شوہروں کو بیویوں کو گھورنے پر سزا دینے کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر قانون سے متعلق غلط معلومات پھیلائی گئیں، حتیٰ کہ بعض صحافیوں نے بھی بل کو پڑھے بغیر اس کا مذاق اڑایا۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ قانون صرف خواتین کے تحفظ تک محدود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ قانون سب کے لیے ہے، ان مردوں کے لیے بھی جو اسے پڑھے بغیر اس پر تبصرہ کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مردوں کے لیے الگ قانون بنایا جانا چاہیے، وہ اس قانون کے دائرہ کار کو نہیں سمجھ رہے۔
ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے وضاحت کی کہ اس قانون کے تحت ان بزرگ والدین کو بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے جو اپنی اولاد کے ہاتھوں تشدد کا سامنا کرتے ہیں، اسی طرح ان کیسز کو بھی شامل کیا گیا ہے جہاں خواتین گھر میں مردوں کے ساتھ بدسلوکی کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’یہ بل صرف خواتین کو تحفظ فراہم نہیں کرتا،‘‘ اور ناقدین پر زور دیا کہ وہ قانون پر تبصرہ کرنے سے پہلے اسے بغور پڑھیں تاکہ عوام تک درست معلومات پہنچ سکیں۔