(ویب ڈیسک ) اسپین کی حکومت نے تقریباً پانچ لاکھ غیرقانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
وزیرِ مائیگریشن ایلما سائیز کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے تحت مستفید ہونے والے افراد کو “ملک کے کسی بھی حصے میں، کسی بھی شعبے میں کام کرنے” کی اجازت ہوگی۔ انہوں نے ہجرت کے “مثبت اثرات” کو بھی سراہا۔
کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں ایلما سائیز نے کہا کہ “ہم امیگریشن کا ایک ایسا ماڈل بنا رہے ہیں جو انسانی حقوق، انضمام، باہمی ہم آہنگی اور معاشی ترقی و سماجی یکجہتی سے ہم آہنگ ہو۔”
یہ اقدام ان افراد پر لاگو ہوگا جو کم از کم 5 ماہ سے اسپین میں مقیم ہیں اور جنہوں نے 31 دسمبر 2025 سے پہلے بین الاقوامی تحفظ کیلئے درخواست دی ہو۔درخواست گزاروں کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہونا ضروری ہوگا۔ یہ باقاعدہ حیثیت ان کے ان بچوں پر بھی لاگو ہوگی جو پہلے ہی اسپین میں رہائش پذیر ہیں۔
’سماجی انصاف‘
اسپین کے کیتھولک چرچ سمیت کئی تنظیموں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے “سماجی انصاف” قرار دیا۔
وزیراعظم پیڈرو سانچیز کا کہنا ہے کہ اسپین کو افرادی قوت کی کمی پوری کرنے اور بڑھتی عمر کی آبادی کے باعث پنشن اور فلاحی نظام کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے ہجرت(مائیگریشن) کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ برسوں میں اسپین کی متحرک معاشی ترقی کا 80 فیصد ہجرت (مائیگریشن )کی بدولت ممکن ہوا۔
منگل کو جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال کی آخری سہ ماہی میں روزگار میں اضافے کے 76,200 افراد میں سے 52,500 غیر ملکی تھے، جس کے نتیجے میں بے روزگاری کی شرح 2008 کے بعد کم ترین سطح پر آ گئی۔
فنکاس تھنک ٹینک کے مطابق، جنوری 2025 کے آغاز میں اسپین میں تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار غیر قانونی تارکینِ وطن موجود تھے، جن میں اکثریت لاطینی امریکیوں کی تھی۔
اسپین یورپ کے ان اہم راستوں میں سے ایک ہے جہاں غربت، تنازعات اور ظلم و ستم سے فرار ہونے والے غیر قانونی تارکینِ وطن داخل ہوتے ہیں، جن میں بڑی تعداد سب صحارا افریقہ سے آنے والوں کی ہے جو شمال مغربی افریقہ کے قریب واقع کینری جزائر پر پہنچتے ہیں۔
قومی ادارہ شماریات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، اسپین کی 4 کروڑ 94 لاکھ آبادی میں سے 70 لاکھ سے زائد افراد غیر ملکی ہیں۔