امریکی اور اسرائیلی بمباری میں جوہری تنصیبات کو کافی نقصان ہوا: ایرانی وزیرخارجہ

امریکی اور اسرائیلی بمباری میں جوہری تنصیبات کو کافی نقصان ہوا: ایرانی وزیرخارجہ

ویب ڈیسک: ایران کے وزیر خارجہ نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی بمباری میں ملک کے جوہری تنصیبات کو ’بہت زیادہ اور سنگین‘ نقصان پہنچا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کی شام ایک سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کی جانب سے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، جب اسرائیل نے حملے شروع کیے تو ایران نے مذاکرات کا چھٹا دور منسوخ کر دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ نئے مذاکرات شروع کرنے کے لئے کوئی معاہدہ یا بات چیت نہیں کی گئی ہے۔‘’حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ ’ایرانی عوام کے مفاد‘ میں کیا ہے۔‘
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی کوشش میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو دفاعی استعمال سے دور رہتے ہوئے توانائی پیدا کرنے والے جوہری پروگرام کی تعمیر کے لئے 30 ارب ڈالر تک رسائی حاصل کرنے، پابندیوں میں نرمی کرنے اور اربوں ڈالر کے محدود ایرانی فنڈز کو بحال کرنے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
لیکن ایران میں ہونے والی پیش رفت اس اقدام میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
 کچھ دیر قبل ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ملک کے جوہری پروگرام میں کوئی خلل نہیں پڑا‘ خامنہ ای امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا جواب دے رہے تھے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ بموں نے تین جوہری تنصیبات کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا ہے۔

Watch Live Public News