بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جنسی  اسکینڈل کی لپیٹ میں، کانگریس کے سنگین الزامات

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جنسی  اسکینڈل کی لپیٹ میں، کانگریس کے سنگین الزامات
کیپشن: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جنسی  اسکینڈل کی لپیٹ میں، کانگریس کے سنگین الزامات

ویب ڈیسک: انڈین کانگریس پارٹی نے مودی پر خواتین کے جنسی استحصال کے سنگین الزامات لگا دئیے۔ کانگریس نے سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کر کے نئے سوالات اٹھا دیے۔

مودی سی ڈی اسکینڈل بھارتی سیاست میں اخلاقی گراوٹ کا کھلا ثبوت بن گیا۔ بی جے پی رہنما سبرامنیم سوامی کا انٹرویو بھی بھارتی سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ جس میں انہیں کہتے سنا جاسکتا ہے کہ میں کم از کم چار خواتین کو جانتا ہوں جو مودی سے جسمانی تعلقات کے بعد وزیر بنائ گئیں۔ 

کپل مشرا نے 2015 میں دہلی اسمبلی میں خطاب کیا تھا جو کہ اب وائرل ہے۔ اس میں انہوں نے کہا کہ مودی بطور وزیر اعلیٰ گجرات ایک خاتون کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں تنہائی میں ملتے رہے- مودی کی وزارت اعلیٰ کے دور میں گجرات میں ایک لڑکی کو سرکاری پروٹوکول میں وزیراعلیٰ ہاؤس منتقل کیا جاتا تھا۔ لڑکی کو وزیراعلیٰ ہاؤس کے ساتھ کمرے میں رکھا جاتا، آگے کیا ہوتا، تفصیل مبینہ سی ڈی میں موجود ہیں۔ 

معروف بھارتی مصنفہ  پروفیسر مدھو پورنیما کشور نے بھی   کپل مشرا کے دعویٰ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے ذاتی تعلقات پر خواتین کو عہدے دیے۔ 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایف اے پاس سمرتی ایرانی کو مودی کی خواہش پر وزارت تعلیم ملی- مانسی کے ساتھ مودی کے رومانوی تعلقات کی تفصیل سپریم کورٹ میں موجود ہے۔ ہر دیپ پوری اور جے شنکر مودی گجرات میں وزیراعلیٰ مودی کی خصوصی تسکین کا سامان مہیا کرتے رہے۔ مودی کی انہی حرکتوں کی وجہ سے میں نے اس سے فاصلہ رکھا۔ 

بھارتی اپوزیشن نے کہا کہ مودی اور امیت شاہ سے متعلق قابل اعتراض ویڈیوز سپریم کورٹ میں پیش کی گئیں- گزشتہ دس سال سے کیس  مسلسل تعطل کا شکار ہے۔ بی جے پی رہنما سبرامنیم سوامی کے سنگین الزامات کے باوجودبی جے پی قیادت مکمل خاموش ہے۔ خواتین رہنماؤں اور سابق وزراء کی مسلسل خاموشی نے معاملے کو مزید مشکوک اور حساس بنا دیا ہے۔ عدالتی ریکارڈ میں شواہد کی موجودگی کے باوجود پیش رفت نہ ہونابھارتی نظام انصاف پربڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ 

بھارتی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ایک دہائی گزرنے کے باوجود انصاف کی فراہمی کیوں ممکن نہیں ہو سکی؟ اگر ان الزامات میں کوئی سچائی نہیں، تو پھر گزشتہ 10 سال سے سپریم کورٹ اسکا فیصلہ کیوں نہیں کر رہی؟ 

سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ کیا سی بی آئی اور ای ڈی جیسے بڑے ادارے صرف اقلیتوں  کو دبانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں؟ 

بھارتی اپوزیشن نے سوال اٹھایا ہے کہ جب کپل مشرا اور سبرامنیم سوامی جیسے رہنما خود اس طرف اشارہ کر رہے ہیں، توبی جے پی میں یہ خاموشی کیوں ہے؟ جو بی جے پی رہنما ہر معاملے پر فوری کیمروں کے سامنے آ جاتے ہیں، وہ اس بڑے معاملے پر کیوں چہرے چھپا رہے ہیں؟ اگر بھارتی حکومت واقعی بے قصور ہے، تو غیر جانبدار تحقیقات کا حکم دے کر حقیقت عوام کے سامنے کیوں نہیں لاتی؟ 

Watch Live Public News