مقبوضہ جموں و کشمیر میں امتیازی سلوک اور مذہبی پابندیاں

مقبوضہ جموں و کشمیر میں امتیازی سلوک اور مذہبی پابندیاں
کیپشن: مقبوضہ جموں و کشمیر میں امتیازی سلوک اور مذہبی پابندیاں

ویب ڈیسک: عید الفطر (21 مارچ 2026) کے موقع پر بھارتی حکام نے سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کے دروازے سیل کر دیے اور مسلسل ساتویں سال عید کے اجتماع کو روکا۔ مزید برآں، مقبوضہ کشمیر کے کلیدی مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق کو عید کی صبح ایک بار پھر غیر قانونی طور پر نظر بند کر دیا گیا۔ 

17ویں صدی کی یہ مسجد جس کی امامت روایتی طور پر میرواعظ کرتے ہیں مسلمانوں کا مرکزی مقام رہی ہے۔ یہ ٹارگٹڈ بندش 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے مسلمانوں کے مذہبی شعائر پر لگائی جانے والی امتیازی قدغنوں کی عکاسی کرتی ہے۔

میرواعظ نے سوشل میڈیا پر اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی پابندیاں مقدس تہواروں کو غم اور سوگ کے دنوں میں بدل دیتی ہیں۔

یہ نظربندی نہ صرف عبادت کے حق میں رکاوٹ ہے بلکہ عید کے دن ایک اہم مذہبی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش ہے، جو مذہبی قیادت کو نشانہ بنانے کے ریاستی ہتھکنڈوں کا ثبوت ہے۔

جامع مسجد کے دروازے عید کی صبح سویرے مقفل کر دیے گئے اور پولیس و سیکورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے نمازیوں کو داخل ہونے سے روک دیا۔

انجمن اوقاف جامع مسجد (انتظامیہ) نے تصدیق کی کہ حکام نے ان پابندیوں کے ذریعے عید کی خوشیوں کو محرومی اور غم میں تبدیل کر دیا۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مسجد کی بندش کو "افسوسناک اور تکلیف دہ" قرار دیتے ہوئے وادی میں امن اور حالات معمول پر ہونے کے سرکاری دعوؤں پر سوال اٹھایا۔

اس علامتی مقام پر مسلسل ساتویں سال پابندی عائد کرنا، جسے حکام "امن و امان" کا نام دیتے ہیں، درحقیقت مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر شب خون مارنا ہے۔

نظر بندیوں اور مساجد کی تالہ بندی کو مذہبی رہنماؤں کو خاموش کرنے اور مقدس مواقع پر پرامن اجتماعات کو روکنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

کشمیر کی تاریخی مسجد میں بنیادی اسلامی عبادات کی منظم طریقے سے بندش اقلیتوں کے حقوق کی سنگین پامالی اور ریاست کی انتہا پسندی کو ظاہر کرتی ہے۔

سری نگر میں جامع مسجد کی بار بار بندش مسجدِ اقصیٰ پر لگائی جانے والی اسرائیلی پابندیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ دونوں حکومتیں "سیکیورٹی" کو عبادت میں خلل ڈالنے کے لیے بطور بہانہ استعمال کرتی ہیں۔

عید کی نماز کو جرم بنا کر مودی حکومت نے جمہوری اصولوں کو ترک کر کے ڈرانے دھمکانے اور مذہبی اخراج پر مبنی گورننس ماڈل اپنا لیا ہے۔

ان لاک ڈاؤنز کا مقصد کشمیری عوام کے حوصلوں کو توڑنا اور ان کے مقدس ترین ایام کو ریاستی جبر اور تنہائی کے دور میں بدلنا ہے۔

عبادت گاہوں پر عسکری کنٹرول کی بھارتی پالیسی عالمی استعماری قبضے کے نمونوں کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ریاست انسانی حقوق پر جغرافیائی غلبے کو ترجیح دیتی ہے۔

اسرائیلی طرز کے حربے اپنا کر، بھارتی حکومت نے شہری مراکز کو فوجی زون میں تبدیل کرنے کا وہ فارمولا درآمد کر لیا ہے جہاں پرامن اختلاف کو بھی دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے۔

مودی کا "کشمیر ماڈل" دراصل نیتن یاہو کی مغربی کنارے (West Bank) کی حکمت عملی کی نقل ہے، جس کا مقصد آبادیاتی تناسب تبدیل کر کے خطے کے مسلم اکثریتی تشخص کو مٹانا ہے۔

Watch Live Public News