ویب ڈیسک: (دانش منیر) لاہور کی انتظامی معاملات پر تقسیم کا معاملہ سرد خانے کی نظر ہوگیا۔ لاہور کی سب سے بڑی انتظامی سیٹوں کے عہدیداروں کو اختیارات کی تقسیم کا خوف یا کچھ اور؟ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر آفس نے معاملہ پر چھپ سادھ لی۔
تفصیلات کے مطابق کمشنراور ڈپٹی کمشنر آفس نے محکمہ بورڈ آف ریونیو کے حکم پر لاہور کی انتظامی تقسیم سے قبل انتظامی معاملات کے متعلق مانگی گئی رپورٹ ہی جمع نہ کروائی ۔ محکمہ بورڈ آف ریونیو نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر لاہور کو رپورٹ ترجیحی بنیادوں پرجمع کروانے کی ہدایات کی مگر کوئی جواب نہ دیاگیا۔
ذرائع کے مطابق محکمہ بورڈ آف ریونیو کی جانب سےمتعدد یاد دہانیوں کے باوجود کمشنر / ڈپٹی کمشنر لاہور دفتر نے کوئی رپورٹ جمع کروائی نہ ہی جواب دینا مناسب سمجھا ، جبکہ پبلک نیوز نے بی او ڑر کی کمشنر/ ڈی سی لاہور آفس کو کروائی گئی یاددہانیوں کے لیٹر حاصل کرلیے۔ جس کے مطابق اگست 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان متعدد یاد دہانیوں پر کوئی جواب نہ دیا گیا۔
ان لیٹر زکے ذریعے معلومات مانگی گئیں کہ لاہور میں موجود تحصیلوں کے نام آبادی اور تھانوں کی تعداد بتائی جائے، اور تحصیلوں میں سرکاری اراضی سے متعلق رپورٹ جمع کروائی جائے۔ نقشہ کے ذریعے موجودہ اور تجویز شدہ یونٹس کے حدود کو واضح کیا جائےاور عمارتوں کی موجودگی ،دفاتر ، افسران کی رہائشوں سے متعلق بتایا جائے۔ تجویز شدہ نئے یونٹس کے لیے سٹاف کی موجودگی بارے بھی بتایا جائے۔
نئے یونٹس میں فنانشل عملداری اور ڈسٹرکٹ/ سیشن کورٹ سے قیام سے متعلق بھیمعلومات طلب کی گئیں۔ اس معاملے سے متعلق کمشنر لاہور ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر سے مؤقف مانگا گیا مگر چپ سادھ لی جبکہ کمشنر لاہور کے ترجمان سے بھی مؤقف مانگا گیا مگرجواب نہ دیا گیا۔