ویب ڈیسک: مشرقی وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے فرانس نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی وزیر دفاع کیتھرین ووترین نے کہا کہ یہ تنازع فرانس کا مسئلہ نہیں ہے اور ملک کا مؤقف صرف دفاعی اور غیر جارحانہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس کی حکمت عملی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات پر مبنی ہے اور امن کے لیے صرف سفارتی حل مؤثر ہیں۔
واضح رہے کہ 18 مارچ کو صدر ایمانوئیل میکرون نے امریکا اور اسرائیل کو کہا تھا کہ فرانس آبنائے ہرمز کھلوانے کے کسی آپریشن میں حصہ نہیں لے گا اور وہ اس تنازع کا فریق نہیں ہے۔ تاہم فرانس کشیدگی کے خاتمے کے بعد آزادانہ جہاز رانی کی ضمانت دینے کے لیے اتحاد کی تیاری کر رہا ہے۔
اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم نے بھی اعلان کیا تھا کہ برطانیہ اس آپریشن میں شامل نہیں ہوگا۔