ویب ڈیسک: پہلگام میں ہونے والے مبینہ حملے کو ایک ماہ گزر چکا ہے لیکن بھارتی عوام کے سوالات اب بھی مودی سرکار کا پیچھا کر رہے ہیں۔ حملے سے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت نہ ملنے اور فوری طور پر پاکستان پر الزامات عائد کرنے پر عوام اور دفاعی ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی شہری کا کہنا تھا کہ پہلگام سری نگر سے تقریباً 400 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے،سری نگر سے پہلگام کے راستے میں 11سکیورٹی چوکیاں قائم ہیں،سوال یہ ہے کہ حملہ آور اس قدر سکیورٹی کو عبور کرکے کیسے پہلگام پہنچ گئے؟ ہر آنے جانے والے شخص کو مکمل طور پر چیک کیا جاتا ہے،بسوں کو بھی سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے سختی سے چیک کیا جاتا ہے،اس کے باوجود حملہ آور اس علاقے میں داخل ہونے میں کیسے کامیاب ہو گئے۔
بھارتی شہری کا کہناہے کہ حملہ آوروں نے کئی کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا اور حملہ کیا،اگر حملہ آور واقعی بیرونی تھے تو بی ایس ایف کی اتنی چوکیاں عبور کیسے کیں؟مودی کی جانب سے بغیر کسی تحقیقات کے فوراً پاکستان پر الزامات عائد کرنا غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے،پاکستان اور چین دونوں نے اس حملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، بھارتی حکومت نے فوری طور پر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا۔
بھارتی شہری کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے پاس حملے سے متعلق کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں ہے،ثبوت تب ہوتا کہ بی ایس ایف والے اگر کسی کو پکڑ لیتے،ہر بار جو بھی حملہ آور آتے ہیں وہ فوجی وردی میں ہی کیوں آتے ہیں؟۔
دفاعی ماہرین کا کہناہے کہ بھارتی شہری کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات مودی اور بی جے پی حکومت کو کمزور ثابت کرتے ہیں، پہلگام فالس فلیگ ایک ماہ کا عرصہ گزر گیا اب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں اور سوالات اٹھنے کا سلسلہ جاری ہے،بھارت اکثر ایسے حملوں کے بعد بغیر تحقیقات کے پاکستان پر بلاجواز الزام تراشی کرتا ہے۔ پہلگام فالس فلیگ کے حوالے سےزمینی حقائق بھارت کے بیانیے کے برعکس ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔