ویب ڈیسک: ایف آئی اے نے قانونی امیگریشن اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے طور پر حالیہ دنوں میں مسافروں کو آف لوڈ کرنے کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق، مشتبہ افراد کو جعلی دستاویزات، نقلی شناختی کارڈز، یا جعلی ویزے کے ساتھ پروازوں سے اُتارا جا رہا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق، مسافروں کے سفری مقصد پر عدم اطمینان، جعلی ایجنٹس یا غیر قانونی گروپوں سے تعلق، اور دستاویزات میں بے ضابطگیاں آف لوڈنگ کی وجوہات میں شامل ہیں۔ خاص طور پر ایسے مسافر جن کے پاس مالی وسائل کم ہیں یا جو وزٹ ویزا پر جانے کے باوجود قیام کے اخراجات کے لیے رقم نہیں رکھتے، ان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ، نامکمل یا غلط ورک ویزا، اور غیر مصدقہ دستاویزات بھی مسافروں کو آف لوڈ کرنے کی وجوہات میں شامل ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق، زیادہ تر مسافر انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کا حصہ بن کر غیر قانونی طور پر یورپ یا دیگر ممالک جانے کی کوشش کرتے ہیں، جس پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
ایف آئی اے نے اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ کارروائیاں صرف پنجاب یا خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے مسافروں تک محدود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام مسافروں پر یکساں چیکنگ کی جا رہی ہے۔
پچھلے 10 ماہ کے دوران کراچی ایئرپورٹ سے 8,000 سے زائد مسافروں کو آف لوڈ کیا جا چکا ہے، جو ایف آئی اے کی سخت پروفائلنگ اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔