آمر مودی کی بھارتی پولیس کا آزاد اظہار پر قدغن کیلئے کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ

آمر مودی کی بھارتی پولیس کا آزاد اظہار پر قدغن کیلئے کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ
کیپشن: آمر مودی کی بھارتی پولیس کا آزاد اظہار پر قدغن کیلئے کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ

ویب ڈیسک: انتہا پسند اور جابر مودی مقبوضہ کشمیر میں آزادی صحافت کو روند کر ریاستی جبر کو معمول کا حصہ بنا چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں صحافت پر قدغن لگا کر اختلافِ رائے کو جرم بنا نے پر عالمی صحافتی تنظیم نے اظہارِ تشویش  کیا ہے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس ( آئی ایف جے) کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں  پولیس  نے کشمیر ٹائمز دفتر پر چھاپہ مار کر علیحدگی پسند نظریات پھیلانے کے الزامات عائدکر دیے۔ کشمیر ٹائمز میں شائع ہونے والا مضمون "ایس آئی اے کے چھاپے: ہمیں خاموش کرنے کی ایک اور کوشش" عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔

ایس آئی اے (اسپیشل انویسٹیگیشن ایجنسی) نے چھاپے میں اسلحہ، گولہ بارود، ڈیجیٹل ڈیوائسز اور دیگر مواد برآمد کرنے کا من گھڑت دعویٰ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ ادارہ علاقہ میں "ملک دشمن گروہوں کے ساتھ مجرمانہ سازش" میں ملوث ہے۔

کشمیر ٹائمز کا مؤقف ہے کہ حکومت پر تنقید ایک صحت مند جمہوریت کیلئے ضروری ہے۔ بھارت آزاد صحافت کو محدود کرنے کیلئے  ایک منظم مہم چلا رہا ہے۔

 آئی ایف جے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ریاستی سرپرستی میں جاری سنسرشپ صحافتی آزادی کو نقصان اور تنقیدی آوازوں کو خاموش کر رہی ہے۔ بھارت آئین میں درج صحافتی آزادی کا احترام کرے اور آزاد صحافت کے خلاف کارروائیاں بند کرے۔ قابض مودی کا مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر کریک ڈاؤن آمرانہ طرزِ حکمرانی کی واضح علامت ہے۔

Watch Live Public News